مولانا کے بیانات میں اچانک اتنی سختی کیوں آ گئی؟

مولانا فضل الرحمٰن اور حکومتی حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے پیچھے صرف بیانات کا اختلاف نہیں بلکہ سیاسی مفادات، اقتدار میں حصے داری اور دہشتگردی و افغانستان سے متعلق پالیسیوں پر اختلافات بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اس بار سیاسی بندوبست میں کسی نمایاں عہدے یا کردار سے محروم رہے، جس سے ان کی ناراضی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے خیال میں مولانا کا دہشتگردی اور افغانستان سے متعلق مؤقف موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتا، جس کی وجہ سے انہیں سیاسی معاملات میں پہلے جیسی اہمیت نہیں دی جا رہی۔

نجم سیٹھی کے مطابق جب پہلی مرتبہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دی گئی تھی تو مولانا فضل الرحمٰن کے حصے میں خیبر پختونخوا کی گورنر شپ آئی تھی، لیکن بعد کے سیاسی انتظامات میں انہیں کوئی نمایاں عہدہ نہیں ملا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں مولانا کو توقع تھی کہ اس مرتبہ بھی انہیں خیبر پختونخوا میں کوئی اہم ذمہ داری دی جائے گی، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے امیدوار کو گورنر بنانے پر اصرار کے باعث ان کی یہ امید پوری نہ ہو سکی۔ سیٹھی کے تجزیے کے مطابق اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کے مفادات اور اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات نے اہم کردار ادا کیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ سخت تنقید کو محض سیاسی ناراضی قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے یہ خدشہ بھی کارفرما ہو سکتا ہے کہ اگر موجودہ سیاسی صورت حال آئندہ انتخابات تک برقرار رہی تو جمعیت علمائے اسلام کی نشستوں میں کمی آ سکتی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق مولانا اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے اور سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی لیے ان کے بیانات میں سختی اور حکومتی جماعتوں، بالخصوص پیپلز پارٹی، پر تنقید نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

مبصرین کے مطابق اس صورت حال کا ایک اہم پہلو مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کے تعلقات بھی ہیں۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مولانا کے خلاف جوابی بیانات سامنے آ رہے ہیں، تاہم رانا ثنا اللہ مولانا فضل الرحمٰن سے تعلقات خراب کرنے کے حق میں نہیں۔ سیٹھی کے تجزیے کے مطابق رانا ثنا اللہ کو اپنی جماعت کی سیاسی مشکلات کا ادراک ہے، اس لیے وہ مولانا کے ساتھ اختلافات کو اس حد تک بڑھانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جہاں مستقبل میں سیاسی تعاون کی گنجائش ختم ہو جائے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں اصل سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی فیصلوں میں نظرانداز کیے جانے کی وجہ صرف عہدوں کی تقسیم ہے یا دہشتگردی اور افغانستان کے معاملے پر ان کا مؤقف بھی اس فاصلے کا سبب بن رہا ہے۔ اگر سیٹھی کا تجزیہ درست ہے تو یہ اختلاف محض چند سیاسی عہدوں تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی کی پالیسی، خیبر پختونخوا کی سیاست اور آئندہ انتخابی صف بندی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

Back to top button