یہ کون ہیں، کہاں سے اترے ہیں؟

تحریر:وسعت اللہ خان ، بشکریہ : بی بی سی اردو

اس ملک کے عام دماغوں کو مکمل بانجھیانے کا جو منصوبہ 1977 میں شروع کیا گیا تھا وہ توقع سے زیادہ کامیاب رہا اور اب چہار سمت ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔‘ ہر شے جواز و معنی و مقام بدل چکی ہے۔ جو جتنا بونا ہے اتنا ہی قد آور ہے، جتنا پڑھا لکھا ہے اتنا ہی گلیارا ہے، جتنا جاہل ہے اتنا ہی بڑا عالم ہے۔

کبھی یہ سماج بھی کم ازکم ذہنی اعتبار سے قدرے ترقی یافتہ تھا۔ آج ترقی باختہ ہے۔ جو چند گِنے چُنے دوست آس پاس رہ گئے ہیں ان کی خواہش ہے کہ ہم ایک نارمل قوم بن جائیں اور ہمارا جواب یہ ہے کہ جب فدوی نارمل ہونے میں دلچپسپی نہیں رکھتا تو اسے بار بار نارمل ہونے پر مجبور نہ کیا جاوے۔

کبھی ہم میں سے کچھ لوگ آگے کی جانب دیکھنے کے عادی تھے اور پھر ہم پیچھے کی جانب پلٹا دیے گئے تو ہمارا آگا بھی پلٹ کر پیچھے کا پیچھا کرنے پر لگا دیا گیا۔ اب تو ہم پیچھے کی جانب دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ کون سا نظام ہے جس کی نقالی کی یہاں کوشش نہیں ہوئی۔ کون سا تجربہ ہے جو ناکام نہیں ہوا۔ کون سی کوشش ہے جو بامراد ہوئی ہو۔

کون سا مثالیہ (رول ماڈل) ہے جو آخر میں تاش کی گڈی کی طرح نہ بکھرا ہو۔ کون سی امنگ ہے جس پر کوڑے نہ برسے ہوں۔ کون سا خواب ہے جو زخمی ہونے سے بچ نکلا ہو۔ کون سا سوال ہے جس کا پوری سچائی سے سامنا کر کے اس کا ٹھیک ٹھیک جواب تلاش کیا گیا ہو۔ کون سا شتر مرغ ہے جس نے ریت میں سردبانا نہ سیکھا ہو۔

اور اب ہم اس موڑ پر آن پہنچے ہیں کہ جس دن جھوٹ کی سرنج میں دھوکے کا نشہ بھر کے جسم میں نہ اتاریں تو وجود تڑخنے لگتا ہے۔ انجکشن لگا لگا کے بدن پہلے نیلا اور اب سن ہو چکا ہے۔ مگر کون یہ نشہ چھڑوائے۔

معالج دوکان بڑھا کے گھر بیٹھ گئے یا پھر خلا چھوڑ گئے۔ اب تو ڈھنگ کا عطائی بھی بمشکل دستیاب ہے۔ کیا کسی نے موجودہ قیادت کی ہئیت پر غور کیا ہے؟ یہ سب کے سب پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ سائنسی علوم کا تو خیر ذکر ہی کیا ان میں سے اکثر نے تو تاریخ، جغرافیہ، شہریات، فلسفہ اور دین کا گیان بھی سن سن کے حاصل کیا ہے اور وہ بھی ٹکڑوں بخروں میں۔ یعنی صاحب بہرے ہوتے تو نپٹ ان پڑھ ہوتے۔

یہ نہ اخبار پڑھتے ہیں، نہ چینل دیکھنے کی فرصت ہے، نہ انھیں یاد ہے کہ آخری کتاب کب پڑھی تھی۔ نہ ان کی تقریرِ دل پذیر میں کوئی مستند علمی و تحقیقی حوالہ ہوتا ہے۔ نہ کوئی ڈھنگ کا سپیچ رائٹر میسر ہے۔ لکھنا تو رہا ایک طرف ان کے مذاکراتی و تقریری نوٹس بھی ملازم تیار کرتے ہیں اور مشق بھی کرواتے ہیں۔ پھر بھی لکھا ہوا روانی سے نہیں پڑھ پاتے اور جب فی البدیہہ بولتے ہیں تو دل لرزتا رہتا ہے کہ کوئی بھنڈ نہ مار دیں، کوئی الٹی سیدھی الٹی نہ کردیں کہ جسے بعد میں ان کا عملہ و مشیرانِ کرام پونچھتے پھریں۔

میری نانی کہتی تھیں کہ سوتے کو تو جگایا جا سکتا ہے، جاگتے کو کون جگائے۔ میرے سوشیالوجی کے استاد کہتے تھے کہ ڈرو اس شخص سے جو سب جانتا ہو۔ ایسے کو کچھ بتانا یا سکھانا یا سوائے پٹی کے کچھ بھی پڑھانا ناممکن ہے (مجھے سوشیالوجی کا اردو متبادل معلوم ہے مگر خوفِ عزت کے سبب میں سوشیالوجی ہی کہوں گا)۔ اور پھر جب ایسے رول ماڈلز، مصلحین، مفکرین و ذہین ترینوں کو اندھی عقیدت کا رتھ مل جائے تو پھر اس رتھ کو کھینچنے والے کھوپا زدہ گھوڑوں کے سموں سے چنگاریاں نکل کر خشک پتوں جیسے دماغوں کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہیں۔

کل عالمی یومِ کتاب تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ کتاب لکھنا قابلِ رشک مگر مشکل کام سمجھا جاتا تھا۔ آج کتاب لکھنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ سب سے مشکل کام ہے وہ کتاب یا کوئی بھی کتاب پڑھوانا۔ اسی سماج میں اب سے چار دہائی پہلے تھکی سے تھکی کتاب کا پہلا ایڈیشن کم از کم ایک ہزار کا چھاپا جاتا تھا۔ حالانکہ اس وقت آبادی اور نام نہاد شرحِ خواندگی بھی کم تھی۔

ڈجیٹل صورِ قیامت کلک ہو چکا ہے

آج یہ حال ہے کہ 22 کروڑ کے ملک میں ناشر خود منع کر دیتا ہے کہ پہلا ایڈیشن ڈھائی سو یا پانچ سو کا چھاپ لیں۔ نکل گیا تو دوسرا ایڈیشن بھی لے آئیں گے۔ جب پڑھنے کی روایت کو سننے سے اور سننے کی روایت کو سنی ان سنی سے اور سنی ان سنی کی عزت کو بے نقط سنانے کے چلن سے بقائی خطرہ ہو تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔

حالتِ حال کے سبب حالتِ حال بھی گئی

شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی (جون ایلیا)

Related Articles

Back to top button