FATF گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کو 38 ارب ڈالرز کا نقصان

سال 2008 سے سال 2019 تک 12 برس کے دوران ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو تین بار گرے لسٹ میں ڈالنے سے ملک کو 38 ارب ڈالز کا بڑا نقصان ہوا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے حالیہ پیرس اجلاس کے بعد ابھی مزید گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ اس خدشے کا اظہار پاکستانی تھنک ٹینک تبادلیب نے اپنی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں کیا ہے۔ تھنک ٹینک تبادلیب کے ڈاکٹر نافع سردار کے مطابق پیرس اجلاس کے بعد بھی پاکستان کے ایف ای تی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات محدود ہیں۔
یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پیرس کے تین روزہ اجلاس اجلاس میں پاکستان سے متعلق ایشیا پیسفک رپورٹ پر اپنا جائزہ مکمل کرلیا ہے جس کی روشنی میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا برقرار رکھنےکا اعلان متوقع ہے. ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے پیرس اجلاس کے دوران ایشیا پیسفک گروپ کی رپورٹس پر بحث مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا برقرار رکھنےکا فیصلہ 25 فروری کو کیا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں زیر بحث آنے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی فنانسنگ کے حوالے سے عائد کردہ تمام 27 شرائط پر مکمل یا جزوی طور پر عمل درآمد کرلیا۔ اس لئے پاکستانی وزارت خزانہ کے حکام اچھی خبر کےلئے پر امید ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا گیا تھا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ماضی میں ایف ای ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو تجویز کردہ 27 میں سے 6 سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ابھی پاکستان کو فروری 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔ اب 25 فروری کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر اجلاس میں ہونے والے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور شدت پسندوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں جن پر عملدرآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن ممالک کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔ 2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تو پاکستان کے مالی نظام اور قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 سفارشات کے مطابق پایا گیا جبکہ باقی 27 سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے پاکستان کو ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم فروری 2020 تک پاکستان صرف 14 سفارشات پر ہی عمل درآمد کر سکا لہٰذا پاکستان کو اکتوبر 2020 تک کا مزید وقت دیا گیا تاکہ باقی 13 سفارشات پر بھی عمل درآمد کروایا جا سکے۔
لیکن اکتوبر 2020 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جس میں مزید کام درکار ہے اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا۔
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان پر عائد کردہ شرطوں میں پہلی یہ تھی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس چیز کا عملی مظاہرے کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اسکی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ دوسری شرط کے مطابق پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ
اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انھیں سزائیں ہوں جس سے ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔ تیسری شرط کے مطابق اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جانی تھیں تاکہ انھیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔ چوتھی شرط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشت گردی کی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں بالخصوص بینکوں کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں۔
ایف اے ٹی ایف کے پیرس اجلاس میں ان چار شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد اب یہ فیصلہ ہونا ہے کہ آیا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے پاکستان نے سخت کوششیں بھی کی ہیں۔
یاد رہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان نے بہت سارے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ اسی سلسلے میں اپریل 2019 میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ سے منسلک تنظیموں اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔ جولائی 2019 میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا اور پھر ان پر فرد جرم بھی عائد کی گئی جبکہ گذشتہ سال نومبر میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں ساڑھے 10 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ان کے تمام اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔
رواں برس جنوری میں لاہور ہی کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے جرم میں پانچ سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات پوری کرنے اور ٹیرر فاننسنگ کی روک تھام کے لیے 15 معاملات پر قانون سازی بھی کر چکا ہے۔
تاہم پاکستانی تھنک ٹینک تبادلیب کے مطابق ان تمام تر اقدامات کے باوجود پاکستان کو ابھی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا آتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button