سیلاب کے دوران ہم لوگ کون سی حماقتیں کر رہے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے میں سیلاب کے دوران تین خوف ناک حماقتیں دیکھ رہا ہوں، پہلی حماقت نقد امداد ہے۔ ہم متاثرین کو براہ راست نقد امداد بھجوا رہے ہیں جب کہ متاثرہ علاقوں کے تمام بینکس، اے ٹی ایم اور ایزی کیش کے سینٹرز پانی میں ڈوب چکے ہیں لہٰذا سوال یہ ہے کہ متاثرین کو رقم کیسے ملے گی؟ اگر رقم مل بھی جائے تو اگلا سوال یہ ہے کہ کیا سامان خریدنے کے لیے دکانیں اور منڈیاں کھلی ہیں اور کیا سڑکیں، پل، ٹرانسپورٹ اور گاڑیاں موجود ہیں؟ دوسرا ہم متاثرین کے سروں پر آٹا‘ دالیں‘ چاول‘ چینی اور گھی کی بوریاں پھینک رہے ہیں۔ حکومت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بوریاں داغ رہی ہے جب کہ این جی اوز کشتیوں کے ذریعے خشک راشن پہنچا رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے یہ لوگ خشک راشن کو پکائیں گے کیسے خصوصاً جب کہ متاثرین پانچ پانچ فٹ تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
کیا لوگ اس پانی میں چولہے جلا سکیں گے؟ کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں‘ گیس یا بجلی کہاں سے آئے گی اور کیا پھر یہ لوگ خشک راشن کھائیں گے۔ بقول جاوید چوہدری تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں امدادی کیمپ لگے ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں اور رقم جمع کر کے کہاں بھجوا رہے ہیں؟ کوئی اس بارے کچھ نہیں جانتا، حکومت بھی اس سے لاتعلق ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان حماقتوں سے سیلاب متاثرین کی مدد کر سکیں گے؟
جاوید چوہدری حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان اداروں کی فہرست اور اکاؤنٹس جاری کر دے جنہیں وہ امداد اکٹھی کرنے کا اہل سمجھتی ہے۔ حکومت یہ کام بے شک فوج کو سونپ دے لیکن کسی ایک ادارے کو اس صورت حال کو لیڈ کرنے دیں۔ جاوید چوہدری یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو خشک راشن نہ بھیجیں۔ آپ بھنے ہوئے چنے، بھنے ہوئے چاول، گڑ اور میوہ جات کا مرونڈا بنائیں۔ آدھ آدھ کلو کے واٹر پروف پیکٹ بنائیں اور متاثرین میں یہ پیکٹ تقسیم کر دیں۔یوں متاثرین فوری طور پر ان سے اپنی بھوک مٹا لیں گے‘ یہ مرونڈا پنجاب‘ سندھ اور کے پی میں عام بنتا ہے‘ آپ بس اس میں تھوڑا سا کوکنگ آئل یا گھی بھی ڈال دیں تاکہ خوراک کے تمام اجزاء پورے ہو جائیں‘ سیلاب متاثرین کے لیے مرونڈا مکمل خوراک ہو گا جسے ہر عمر کے لوگ کھا سکیں گے اور اسے پکانا بھی نہیں پڑے گا۔ اس کے بعد سیلاب زدہ علاقوں میں جب پانی اتر جائے تو آپ لوگوں کو خشک راشن پہنچانا شروع کر سکتے ہیں۔
عمران کو بغیرسزا نہیں چھوڑا جاسکتا، عدالت کا رویہ عجیب لگا
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس وقت ہمارے ملک کا تیس فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کوئٹہ شہر کی تمام سڑکیں‘ پل اور موبائل فون ٹاورز ٹوٹ گئے ہیں‘ بجلی‘ گیس اور پانی بھی بند ہے اور اے ٹی ایم اور بینکس بھی جواب دے گئے ہیں‘ صوبائی دارالحکومت کا باقی ملک سے عملاً رابطہ ٹوٹ چکا ہے‘ دوسرے علاقوں کی صورت حال بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ متاثرین کی تعداد تین کروڑ 30 لاکھ ہو چکی ہے۔ سیلاب متاثرین اس وقت گلگت بلتستان سے لے کر گوادر تک آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آہ وزاری کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چین ہو‘ ایران ہو‘ ترکی ہو‘ ملائیشیا ہو یا پھر باقی دنیا ہو سیلاب‘ زلزلے اور خشک سالی وہاں بھی آتی ہے لیکن یہ اپنے لوگوں کو ان آفتوں سے بچا بھی لیتے ہیں اور دوسروں کی مدد کے بغیر انھیں بحال بھی کر دیتے ہیں‘ کیسے؟ جب کہ ہم ہر آفت‘ ہر مصیبت میں اپنے لوگوں کو موت کے حوالے کر کے‘ امداد‘ امداد کی صدائیں لگانے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں‘ہم اسے بھی بھیک کا بہانہ بنا لیتے ہیں‘ کیوں؟ کیا دوسری اقوام ’’سپر ہیومین ‘‘ ہیں یا پھر ہم انسانوں کی کوئی پست ترین شکل ہیں‘ ہمارا آخر ایشو کیا ہے؟ انکا کہنا ہے کہ ہم آج تک اپنی قوم کو آفتوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر سکے‘ آگ لگ جائے‘ پانی آ جائے یا کوئی کسی حادثے کا شکار ہو جائے‘ ہم میں سے کسی شخص کو اس سے نبٹنا نہیں آتا‘ دوسرا حکومت نے بھی آج دن تک حادثوں اور آفتوں سے نمٹنے کے لیے کاغذی منصوبوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا‘ ہم نے قومی سطح پر این ڈی ایم اے اور صوبائی لیول پر پی ڈی ایم اے بنا دیے لیکن یہ بھی نام کے ادارے ہیں اور یہ ہلاکتوں کا ڈیٹا جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم اگر ملک بھر کے اساتذہ ہی کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ سکھا دیں تو بھی ہمیں اقوام متحدہ کی مدد کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
