جنرل باجوہ نے عاصم منیر کو COAS بنانے کی مخالفت کیوں کی؟

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو نیا آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے اور اس حوالے سے انہوں نے نواز شریف کو پیغام بھی بھیجا تھا لیکن حکومت نے سابق وزیر اعظم کے مشورے سے جنرل عاصم منیر احمد کو بہتر امیدوار سمجھتے ہوئے نیا آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ ساحر شمشاد کو جنرل باجوہ کے علاوہ عمران اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بھی قریب خیال کیا جاتا تھا اور اسی لیے ان لوگوں کی جانب سے آخری لمحے تک ساحر شمشاد مرزا کو نیا آرمی چیف بنانے کی کوششیں جاری رہیں۔ فیض حمید کا خیال تھا کہ اگر ساحر شمشاد آرمی چیف بن جائیں گے تو وہ انہیں دوبارہ ڈی جی آئی ایس آئی بھی لگا سکتے ہیں، تاہم ان کی بدقسمتی کہ حکومت نے عاصم منیر کو آرمی چیف بنا دیا اور فیض کو وقت سے پہلے استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے ایک اور توسیع کے لئے بھرپور کوشش کی لیکن جب حکومت نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا تو انہوں نے ساحر شمشاد مرزا کو نیا آرمی چیف بنوانے کی کوشش شروع کر دی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کے ساحر شمشاد مرزا کو نیا چیف بنانے کے لیے جنرل باجوہ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر تھے، اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جنرل باجوہ نے حکومت کو دھمکی دی کہ اگر ساحر مرزا کو فوجی سربراہ بنانے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو وہ آرمی چیف کے ممکنہ امیدواروں کی لسٹ میں عاصم منیر کا نام شامل نہیں کریں گے کیونکہ وہ 27 اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔ جنرل باجوہ کا موقف تھا کہ ساحر شمشاد سینئر موسٹ جرنیل ہیں اور وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر حکومت نے جوابی پیغام دیا کہ ممکنہ امیدواروں کی لسٹ بھجوانا صرف ایک روایت ہے اور اگر کوئی غیر ضروری پنگا ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وزیر اعظم کسی لسٹ کے بغیر ہی نئے آرمی چیف کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتے ہیں۔ یہی وہ سٹیج تھی جب جنرل باجوہ کی جانب سے مارشل لا لگانے کی دھمکی بھی دی گئی جس کا انکشاف سینئر صحافی حامد میر بھی کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ تب ساحر شمشاد کور کمانڈر راولپنڈی تھے اور ہمیشہ مارشل لاء لگانے کے لیے استعمال ہونے والا بریگیڈ ٹرپل ون بھی انکی کمانڈ میں تھا۔
بعد ازاں دونوں جانب کے لوگوں نے مل جل کر جی ایچ کیو اور حکومت کے مابین پیچ اپ کروایا اور درمیانی راستہ نکالتے ہوئے یہ فیصلہ ہوا کہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو جنرل ندیم رضا کی جگہ نیا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف بنایا جائے گا جبکہ آرمی چیف عاصم منیر ہی ہوں گے۔ چنانچہ جی ایچ کیو نے وزیر اعظم ہاؤس کو جو سمری بھجوائی اس میں عاصم منیر سنیارٹی میں پہلے نمبر پر جبکہ ساحر شمشاد مرزا دوسرے نمبر پر تھے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے جنرل قمر باجوہ سے حالیہ ملاقات کے بعد اپنی ایک تحریر میں بتایا ہے کہ باجوہ صاحب عاصم منیر کی بجائے ساحر شمشاد مرزا کو اس لیے آرمی چیف بنانا چاہتے تھے کہ انہیں ڈر تھا کہ عمران خان نئے آرمی چیف کے خلاف بھی مہم شروع کر دیں گے۔ لیکن حکومتی حلقوں کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ باجوہ صاحب عاصم منیر کو انکی اصول پسندی اور سخت گیر طبیعت کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے اور اسی لئے انہوں نے عمران کے ایما پر 2018 میں انہیں وقت سے پہلے ہی آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے فارغ کر دیا تھا۔
حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ اپنی جگہ اپنے دست راست کور کمانڈر راولپنڈی ساحر شمشاد کو آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ انکے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ جاوید چوہدری بھی تصدیق کرتے ہیں کہ حکومت جنرل فیض حمید کو اور پی ٹی آئی جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی تھی، تاہم انکا دعویٰ ہے کہ باجوہ صاحب عاصم منیر کو پسند کرتے تھے اور سمجھتے تھے ان کے ساتھ 2018 میں زیادتی ہوئی جب انھیں آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے ہٹایا گیا، لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی خیال تھا اگر عاصم آرمی چیف بن جاتے ہیں تو عمران کی نفرت اگلی قیادت تک سفر کر جائے گی۔ ان کا خیال تھا کی عاصم منیر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا دیا جائے اور جنرل ساحر مرزا کو آرمی چیف بنایا جائے۔ لیگی رہنما ملک احمد جنرل باجوہ کا یہ پیغام لے کر نواز شریف کے پاس لندن گئے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ناموں کی سمری بھجوا دیں، نئے چیف کا فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔ تاہم اس دوران شاہد خاقان عباسی بھی آرمی چیف سے ملے‘ باجوہ نے انھیں بھی صورت حال سمجھائی اور انھیں جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نام دیا لیکن چند دن بعد نواز شریف نے اپنا ایک کاروباری دوست باجوہ کے پاس بھجوا دیا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اس دوست کے ان دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات تھے‘ اس نے آرمی چیف سے دو سوال کیے‘ پہلا یہ تھا کہ دونوں امیدواروں میں سے زیادہ دباؤ کون برداشت کر سکتا ہے؟ جنرل باجوہ کا جواب تھا‘ جنرل عاصم منیر احمد۔باجوہ سے دوسرا سوال یہ کیا گیا کہ‘ عربوں کے ساتھ کس کے تعلقات زیادہ اچھے ہیں؟ جنرل باجوہ کا جواب تھا‘ جنرل عاصم منیر اور یوں حکومت نے عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ نواز شریف نے شہباز شریف کو جنرل عاصم منیر کا نام دیا اور چھٹیوں پر یورپ چلے گئے۔ تقرری سے پہلے ملک محمد احمد لاہور سے خواجہ آصف کو لے کر اسلام آباد آئے۔ عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کے راستے بند تھے‘ یہ دونوں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جی ایچ کیو پہنچے‘ انہوں نے باجوہ سے آخری مشورہ کیا اور وزیر اعظم نے اگلی صبح سمری ایوان صدر بھجوا دی‘ وزیر اعظم نے اس کے بعد صدر عارف علوی کو اپنا طیارہ دیا‘ وہ لاہور گئے‘ عمران کو منایا‘ نئے آرمی چیف کا اعلان ہوا اور وزیراعظم ترکی کے دورے پر چلے گئے۔ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ رابطہ کرنے پر ملک محمد احمد نے اپنے حصے کے واقعات کی تصدیق کر دی ہے۔
