جنرل فیض کا پٹواری بھائی مس کنڈکٹ پر فارغ

ملکی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل اور سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے عمرانڈو بھائی سردار نجف حمید خان کو اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور مس کنڈکٹ کے الزام میں نائب تحصیلدار چکوال کے عہدے سے معطل کر دیا گیا۔یہ پیشرفت ان کے بھائی فیض حمید  کے فوج سے ریٹائر ہونے کے مہینوں بعد سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ مال چکوال کے افسران کی جانب سے بڑا کریک ڈاؤن کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں محکمہ مال چکوال کے 4 گرداور اور 8 پٹواریوں کو معطل کردیا گیا ہے ۔فیض حمید کے بھائی سمیت معطل ہونے والے گرداور اور پٹواریوں پر نازیبا رویے اور اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے۔اس ضمن میں راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر  آفس کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ جس میں سردارنجف حمید خان کو فوری طور پر کمشنر آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ سردار نجف حمید خان جنرل (ر)فیض حمید کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ممبر اور سرگرم رہنما بھی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ دوران ملازمت ہی پی ٹی آئی کیلئے جلسے ،ریلیوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں، انتخابات کے دوران الیکشن مہم میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 20 مئی 2021 میں کمشنر راولپنڈی ڈویژن سید گلزار حسین شاہ نے نجف حمید خان کو گرداور سے نائب تحصیلدار کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ وہ ضلع چکوال میں پٹواری کے طور پر خدمات انجام دے رہےتھے۔

 

یاد رہے کہ فیض حمید کا خاندان پہلے ہی باقاعدہ تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے۔ جنرل فیض حمید کے قریبی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ اسے صرف ممبر پارلیمان بننے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ وہ اپنا سیاسی کریئر اس سے زیادہ اور اس سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ فیض حمید کا خیال ہے کہ وہ تحریک انصاف اور اس کے سوشل میڈیا فالورز میں کافی مقبول ہیں اس لئے پی ٹی آئی میں ان کی گنجائش موجود ہے۔ ویسے بھی عمران خان کی جماعت کو 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے میں فیض حمید کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس لئے ان کے قریبی ذرائع کے مطابق عمران کی ممکنہ نااہلی کے بعد فیض حمید خود کو تحریک انصاف کی متبادل قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیل سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض ابھی ساٹھ برس کے بھی نہیں ہوئے اس لئے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیلنے کے لئے ان کے پاس کافی وقت موجود ہے۔ تاہم فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آئین کے مطابق فیض حمید پر دو سال کے لئے عملی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے لیکن وہ ان دو برسوں میں اپنے نئے کیرئیر کے لیے نیٹ پریکٹس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی رائے میں 2023 کے الیکشن کے بعد ان کے لئے تحریک انصاف میں بطور متبادل سامنے آنے کا بہترین وقت ہوگا۔ فیض حمید 2023 سے اگلے الیکشن میں اپنا سیاسی کردار دیکھ رہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ 10 دسمبر کو ریٹائرمنٹ کی منظوری کے بعد 14 دسمبر کو فیض کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں اپنے آبائی علاقے چکوال میں ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ کہ اس اجتماع کا انتظام جنرل فیض کے بھائی سابق پٹواری نجف حمید نے کیا تھا جو پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔یاد رہے کہ فیض حمید نے جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف کا چارج سنبھالنے سے قبل ہی ریٹائر ہو جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جنرل باجوہ نے اپنی سروس کے آخری دن انکی ریٹائرمنٹ کی منظوری دی۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ان کی ریٹائرمنٹ اوکے کر دی۔ اس طرح دس دسمبر کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا فوج میں آخری دن تھا اور وہ اب ریٹائر ہو کر گھر جا چکے ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس منی بجٹ پر بغیر ووٹنگ ملتوی کر دیا گیا

Back to top button