غلام سرور خان کے بڑبولے پن نے پی آئی اے کو کیسے تباہ کیا؟

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے بڑبولے پن کا خمیازہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کو یوں بھگتنا پڑ رہا ہے کہ دو سال بعد بھی یورپی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں سے پابندی اٹھانے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس سے سالانہ اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ جولائی 2020 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے تب پروازیں چلانے سے روک دیا گیا تھا جب غلام سرور خان کی جانب سے سینکڑوں پاکستانی پائلٹوں کے جعلی لائسنس بارے بیان کے بعد یورپی یونین کی ایئر سیفٹی ایجسنی ای اے ایس اے نے پی آئی اے کا یورپی ممالک میں پروازیں آپریٹ کرنے کا اجازت نامہ معطل کردیا تھا۔

6 جنوری 2022 کو پریس کانفرنس میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی ہوا بازی اداروں کو یہ بتانے کے لیے خط لکھ رہا ہے کہ آئی سی اے او کی جانب سے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات کو دور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یورپ میں اہم مقامات کے لیے پروازیں فروری یا مارچ کے اوائل میں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ پی آئی اے کو اس بحرانی صورتحال میں دھکیلنے والے بھی موصوف غلام سرور خان تھے جنہوں نے قومی اسمبلی میں لگی لپٹی رکھے بغیر یہ دعویٰ کیا تھا کہ پی آئی اے میں سابق ادوار میں جعلی ڈگری والے پائلٹس بھرتی کئے گئے ہیں جن کی سکروٹنی کرکے فارغ کردیا جائے گا۔

بڑبولے وزیر کے اس دعوے کو بنیاد بناتے ہوئے یورپ سمیت کئی ممالک نے پی آئی اے پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے ہاں آپریٹ کرنے سے روک دیا تھا جس کے باعث قومی ایئرلائن کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں کئی ممالک نے یہ پابندی ختم کردی لیکن یورپی یونین تاحال پی آئی اے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔

حال ہی میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کو لکھے گئے خط میں ای اے ایس اے کے چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹرک کی نے کہا کہ اگرچہ پاکستان انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات کو دور کرنے میں کامیاب رہا ہے لیکن یہ پاکستانی ایئرلائنز سے پابندیاں ہٹانے کے عمل کا صرف ایک حصہ تھا۔ ای اے ایس اے کےخط میں کہا گیا کہ اس اہم حفاظتی خدشے کا دور ہونا پاکستان سے تھرڈ کنٹری آپریٹر اجازت کی پابندی ممکنہ طور پر اٹھانے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ تاہم خط میں لکھا گیا کہ ایجنسی سفری پابندی اٹھانے سے پہلے آپریٹر کا آڈٹ کرے گی۔

لاہور:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نجی ٹی وی کا رپورٹر جاں‌ بحق

چونکہ ریاست کی نگرانی میں خامیاں پابندی کے فیصلے کی ایک وجہ بنی تھیں، اس لیے ایجنسی کی جانب سے آڈٹ میں جائزہ لے کر تصدیق کی جائے گی کہ کیا ان خامیوں کو درست طریقے سے دور کیا گیا ہے یا نہیں؟ پی آئی اے کے سربراہ کے ساتھ اپنی خط و کتابت میں پیٹرک کی نے لکھا کہ یہ حوصلہ افزا تھا کہ پاکستان میں 29 نومبر سے 10 دسمبر 2021 تک کی جانے والی یونیورسل سیفٹی اوور سائیٹ آڈٹ پروگرام کی سرگرمیوں کے بعد انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن پاکستانی عملے کے لائسنس سے متعلق پیدا ہونے والے اہم تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب رہی۔

تاہم انہوں نے نشاندہی کی چونکہ حفاظتی خدشات میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سرٹیفیکیشن اور نگرانی کی صلاحیتوں میں سنگین گراوٹ کی نشاندہی واضح ہوئی ہے، اس لیے یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کو پاکستان سے سفری پابندی اٹھاتے وقت اس معاملے پر معلومات درکار ہوں گی۔

خط میں دہرایا گیا کہ پی آئی اے کی تھرڈ کنٹری آتھارائزیشن کی معطلی کے بعد یورپی یونین کمیشن نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کےساتھ باضابطہ مشاورت کی تھی اور کئی میٹنگز بھی ہوئیں تھیں۔ خط میں کہا گیا کہ ان مذاکرات سے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی مجموعی نگرانی کی صلاحیت کا مشاہدہ کرنے کی ضرورت واضح ہوئی۔ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ صرف اس صورت میں آڈٹ کرے گے جب پاکستان اہلکاروں کی حفاظت کی ضمانت دے سکے، اور اس کا تعلق کرونا وبا کی صورتحال سے ہوگا۔

تاہم، پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا کہ لائسنس کے مسائل کی وجہ سے اجازت نامے کی معطلی کے بعد سے پی آئی اے مسلسل ای اے ایس اے کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی اب معطلی ختم کرنے سے پہلے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کا الگ الگ آڈٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی طرف سے ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور یورپی ایوی ایشن ایجنسی کو اپنی ٹیم جلد از جلد پاکستان بھیجنے کے لیے اپنی دستیابی کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

Back to top button