بلوچستان کے ماہی گیر وزیر کیلئے رشوت کیوں اکٹھی کرنے لگے

بار بار دھرنوں اور اپیلوں کے باوجود بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ٹرالر کے ذریعے بڑے پیمانے پر غیر قانونی فشنگ کا سلسلہ نہ رکنے پر سراپا احتجاج مقامی ماہی گیروں نے صوبائی وزیر برائے ماہی گیری اکبر آسکانی کی پیسوں کی ہوس پوری کرنے کے لیے چندہ مہم شروع۔کر دی ہے کہ شاید اس طرح ہی ان کی روزی کا تحفظ ہو سکے اور وزیر موصوف نذرانہ وصول کرکے ہی ٹرالر مافیا کی سرپرستی سے باز آجائیں۔
بلوچستان کے وزیر ماہی گیر کی مٹھی گرم کرنے کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا واقعہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں حق دو تحریک کے زیر اہتمام اورماڑہ میں ہونے والے دھرنے میں پیش آیا ہے۔ بلوچستان میں کسی بھی عوامی اجتماع میں کسی صوبائی وزیر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ دراصل اس دھرنے میں یہ چندہ کسی مستحق فرد کے لیے اکٹھا نہیں کیا گیا بلکہ بلوچستان حکومت کے وزیر برائے ماہی گیری اکبر آسکانی کے لیے اکٹھا کیا گیا۔ حق دو تحریک کے رہنماﺅں نے محکمہ ماہی گیری کے وزیر اور اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر برائے ماہی گیری کو پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے تو ماہی گیر ان کے لیے مستقل چندہ اکٹھا کر کے بھیجا دیا کریں گے لیکن وہ بلوچستان کے ساحلی علاقے میں ٹرالر مافیا کا داخلہ بند کریں۔
بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری کے وزیر اکبر آسکانی نے حق دو تحریک کے رہنماﺅں کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنے خلاف لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اورماڑہ میں مقامی افراد کے دھرنے میں یہ چندہ کسی عام ڈبے یا چادر میں اکٹھا نہیں کیا گیا بلکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں جس ڈبے میں چندہ اکٹھا کیا گیا اس پر صوبائی وزیر اکبر آسکانی کا نام بھی تحریر تھا۔
دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے ماہی گیر ٹرالروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر مچھلی کے غیر قانونی شکار کے باعث روزی روٹی کے محتاج ہو گئے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری ختم نہ ہونے کی بڑی وجہ ان ٹرالروں سے مبینہ طور پر بھتہ خوری ہے۔ اُنھوں نے بھتہ خوری کا الزام محکمہ ماہی گیری کے وزیر اور محکمے کے اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھتے لینے کے وجہ سے سندھ سے ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں آ کر یہاں کے مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور معاش کو تباہ کر رہے ہیں۔
سانحہ مری اور اس کے سبق
مولانا ہدایت الرحمان نے محکمے کے وزیر اکبر آسکانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کو پیسوں کی بہت ضرورت ہے تو وہ غیر قانونی شکار کرنے والے ٹرالرز سے بھتہ نہ لیں بلکہ ماہی گیر ان کے لیے چندہ جمع کر کے اُن کی ضروریات پوری کر دیا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہی گیر جو چندہ جمع کریں گے وہ صوبائی وزیر کے گھر بھیجیں گے اور یہ پیسے حرام مال نہیں بلکہ ماہی گیروں کے حق حلال کی کمائی کے ہوں گے۔ مولانا ہدایت الرحمان اور سٹیج کے منتظمین نے جب وزیر برائے ماہی گیری کے لیے چندہ دینے کی درخواست کی تو وائرل ہونے والی ویڈیو میں بڑی تعداد میں لوگ ڈبے میں پیسے ڈالتے دکھائی دیے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر اکبر آسکانی کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کسی فشنگ ٹرالر سے کوئی بھتہ نہیں لیا اور ان کا ضمیر مطمئن ہے، باقی وہ کسی کو الزام لگانے سے نہیں روک سکتے۔ ان کا کہنا تھا حکومت نے ان لوگوں کے تمام مطالبات تسلیم کیے لیکن انھوں اپنی سیاست چمکانے کے لیے دوبارہ احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یاد رہے کہ حق دو تحریک کے قیام کے بعد گوادر کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے گذشتہ سال نومبر میں گوادر میں دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کے دوران چار بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان ریلیوں میں خواتین اور بچوں کی ریلیاں بھی شامل تھیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے تھے اور مطالبات پر عملدرآمد کے لیے حکومت اور دھرنے کے شرکاء کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد ایک ماہ سے زائد کے عرصے سے جاری رہنے والے اس دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگرچہ حق دو تحریک کی جانب سے گوادر کے لوگوں کے مسائل سے متعلق 15 سے زائد مطالبات پیش کیے گئے تھے جن میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ بھی شامل تھا۔
حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ نا صرف مطالبات کو تسلیم کیا گیا بلکہ ان پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے جن کے نتیجے میں بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور متعدد چیک پوسٹوں کا خاتمہ بھی کیا گیا۔ تاہم حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اگر جلد از جلد حق دو تحریک کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو یکم مارچ سے گوادر میں غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیا جائے گا۔
