کپتان کی سپورٹر حریم شاہ نے بھی انہیں ناکام قرار دے دیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والی معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ کا کہنا ہے کہ میرے خلاف جتنی بھی تحقیقات کر لی جائیں، نہ تو کچھ نکلے گا اور نہ ہی میں گھبرانے والی ہوں۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے گھبرانے کا وقت شروع ہو چکا ہے چونکہ وہ اپنے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکامی کے بعد اب فارغ ہونے والے ہیں۔
آج کل لندن میں موجود حریم شاہ نے ایک ویڈیو پیغام میں بطور وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی سے ناامیدی اور مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم پاکستانی رقپوں کو امریکی ڈالرز میں ایکسچینج کرواتے ہیں تو ہمیں بہت ذیادہ رونا آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستانی روپے کی ویلیو زمین پر آ گری۔ جب ہم نے عمران خان کو ووٹ دیا تھس تو انھوں نے ہمارے اندر ایک امید کی کرن جگائی تھی کہ پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہو جائے گا اور کرنسی کی قیمت بڑھ جائے گی، تاہم دونوں باتیں غلط ثابت ہوئیں۔
حریم شاہ نے کہا کہ عمران حکومت کی گزشتہ ساڑھے تین برس کی کارکردگی دیکھ کر رونا آتا ہے۔ میرے سمیت کروڑوں پاکستانی عمران خان سے مایوس ہوئے ہیں، ناامید ہوئے ہیں لیکن اب بھی ایک امید ہے کہ شاید کوئی ایسا وزیراعظم آ جائے جو پاکستان کی قسمت سنوار دے اور اسے ترقی کی بلندیوں پر لے جائے۔
جائیداد کے جھگڑے میں مذہب کو نہ لائیں
اپنی ایک حالیہ ویڈیو کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے منی لانڈرنگ کے الزامات عائد ہونے پر حریم نے کہا کہ اگر ہم بغیر تحقیق کے ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جہاں تک بات اداروں کی تحقیق کی ہے تو بے شک میرے خلاف تحقیقات کی جائیں، میں انکوائری سے نہیں گھبراتی کیونکہ اس سے میرے موقف کی تائید ہو جائے گی کہ میں نے کسی قسم کی کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی اور جو ویڈیو بنائی وہ ایک مذاق تھا۔ خیال رہے کہ حریم شاہ کے برطانیہ رقم منتقلی کے دعوے کے بعد ایف آئی اے کے حرکت میں آنے پر ٹک ٹاکر اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی تھیں۔
حریم شاہ کی بھاری رقم کے ساتھ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہوں نے ایک کے بعد ایک وضاحتی ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں ان کے ساتھ موجود شخص نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ساری رقم جو حریم نے دکھائی وہ سراصل ان کی تھی اور وہ منی ایکسچینج کا کام کرتے ہیں جب کہ ان کا تمام پیسہ قانونی ہے۔
