کیا گیلانی نے واقعی استعفیٰ دیا ہے یا پھر کارروائی ڈالی ہے؟

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بطور اپوزیشن لیڈر استعفے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہکیا انہوں نے واقعی سنجیدہ ہو کر استعفیٰ دیا ہے یا صرف گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لیے ایسا کیا ہے؟ یہ سوال اٹھانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گیلانی نے اہنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کی بجائے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو بھجوایا تھا جنہوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کے استعفے کی بنیادی وجہ انہی کے ساتھیوں کی جانب سے کیا جانے والا شک تھا جس کے بعد ان کا اس عہدے پر رہنا مناسب نہیں تھا۔
لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے استعفیٰ مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیلانی اس عہدے سے چمٹے رہیں گے یا نہیں؟ تاہم ایک بات طے ہے کہ جس طرح گیلانی نے پچھلے سال کپتان حکومت کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی تھی اور عزت کمائی تھی، وہ سب فرینڈلی اپوزیشن لیڈر ہونے کا الزام لگنے کے بعد خاک ہو چکی یے۔
سینیٹ سے سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل پاس کروانے میں سہولت کاری کے الزام کے بعد یوسف گیلانی نے مستعفی ہونے کا اعلان تو کر دیا ہے تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ پارٹی قیادت کو استعفیٰ دینے کی کوئی قانونی حثییت نہیں ہے اور جب تک وہ چیئرمین سینیٹ کو استعفیٰ نہیں بھیجتے وہ عملی طور پر اپوزیشن لیڈر کے طور پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ ویسے بھی بلاول بھٹو نے انکا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ ایوان بالا میں اپوزیشن کی اکثریت ہونے کے باوجود 28 جنوری کو سینیٹ میں سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا حکومتی بل پاس ہونے پر یوسف رضا گیلانی کو مسلم لیگ ن اور حتی کہ پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر جیسے رہنماؤں کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا کیونکہ وہ اجلاس میں شریک نہیں تھے اور حکومتی بل ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہو گیا تھا۔
دوسری جانب گیلانی کا موقف تھا کہ وہ اس روز حنا ربانی کھر کے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے باہر تھے۔ گیلانی نے 31 جنوری کو جذباتی انداز میں سینیٹ میں اپنوں کی بےاعتنائی کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے بطور اپویشن لیڈر استعفیٰ پیپلز پارٹی کی قیادت کو جمع کرا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے مخالفین کے سخت الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے ہمدردوں کی خاموشی سے حیران ہوں۔ گیلانی کی تقریر کے بعد ن لیگ کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے ایوان میں کھل کر سابق وزیراعظم کی حمایت کر کے سب کو حیران کر دیا۔ سعدیہ عباسی جو کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ بھی ہیں، نے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل پاس ہونے کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بل جس دن پاس ہوا اس دن ہر جماعت کا کوئی نہ کوئی رکن غیر حاضر تھا۔ گیلانی بہت سینیئر سیاستدان ہیں۔ وہ ہر بڑے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر 5 سال کیلئے نااہل قرار
ہم ان کی پارٹی سے درخواست کریں گے کہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا استعفیٰ قبول نہ کیا جائے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یوسف رضا گیلانی کی دل آزاری ہوئی ہے تو ہماری قیادت ان سے معذرت خواہ ہے۔
سینیٹ میں تقریر کے بعد ایوان کے باہر صحافیوں کے سوال پر کہ کیا اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ کا فیصلہ حتمی ہے یا واپس لیں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں پارٹی کے فیصلے کا پابند ہوں اس لیے میں نے اپنا استعفیٰ پارٹی کو بھیج دیا ہے۔
لیخن مبصرین کا خیال ہے کہ پارٹی قیادت کو استعفیٰ دینے کی کوئی قانونی حثییت نہیں ہے اور جب تک وہ چیئرمین سینیٹ کو بطور اپوزیشن لیڈر استعفیٰ نہیں بھیجتے وہ عملی طور پر اپوزیشن لیڈر کے طور پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ یوسف رضا گیلانی سے جب پوچھا گیا کہ حکومتی وزرا کی جانب سے ان کا مسلسل شکریہ ادا کرنے پر ان کا کیا کہنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’حکومت کے سینیٹرز دھاندلی کر رہے ہیں ان کو چیئرمین سینیٹ کو ووٹ کا کریڈٹ دینا چاہیے۔
سعدیہ عباسی نے حمایت کیوں کی؟اس موقع پر سینیٹر سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کا موقف سچ سمجھا اس لیے ان کی حمایت کی۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت کی یہی پالیسی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں پارٹی پالیسی کا علم نہیں گیلانی صاحب کی بات کا یقین ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ باقی جماعتوں کے لوگ بھی اس دن غیر حاضر تھے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اب بھی سینیٹ میں تحریک التوا پیش کر کے سٹیٹ بینک کے بل کی مخالفت کرے گی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا سے پوچھا گیا کہ گیلانی صاحب کے استعفے کے کیا محرکات تھے تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس حوالے سے نہیں معلوم گیلانی صاحب خود ہی اٹھے اور خود ہی اعلان کر دیا۔
اپوزیشن کے ایک سینیٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سینیٹ سے سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل پاس ہونے کے موقع پر کون کون غائب تھا سچ تو یہ ہے کہ اس دن اپوزیشن کے 50 ارکان بھی حاضر ہوتے تو اپوزیشن نے ہی ہارنا تھا کیونکہ زمینی حقائق جب تک نہیں بدلیں گے اپوزیشن سینیٹ میں ہارتی رہے گی۔
