گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف کی سیاسی ری لانچنگ کی تیاریاں

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات صرف ایک علاقائی سیاسی معرکہ نہیں رہے بلکہ قومی سیاست میں بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں ہیں، جنہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا سابق وزیر اعظم عملی سیاست میں مکمل واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2023 میں وطن واپسی کے بعد نواز شریف نے خود کو نسبتاً پس منظر میں رکھا۔ 2024 کے عام انتخابات میں بھی وہ براہِ راست انتخابی مہم کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے نہیں آئے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی اور وزیراعظم شہباز شریف بنے، لیکن نواز شریف نے پارٹی کی اعلیٰ سطحی رہنمائی تک خود کو محدود رکھا۔تاہم گلگت بلتستان انتخابات نے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نواز شریف نہ صرف ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں براہِ راست شریک رہے بلکہ اب وہ انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ سرگرمیاں محض تنظیمی ذمہ داریوں تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت گلگت بلتستان کے انتخابات کو انتہائی اہم سمجھتی ہے۔ ماضی میں بھی گلگت بلتستان کے انتخابات کو وفاقی سیاست کا عکس قرار دیا جاتا رہا ہے اور اکثر وہی جماعت کامیاب ہوئی جس کی حکومت اسلام آباد میں موجود تھی۔نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سینئر رہنما پرویز رشید کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر کی سرگرمیاں ان کی معمول کی سیاسی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں اور انہیں غیر معمولی سیاسی واپسی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق نواز شریف ہمیشہ پارٹی امور میں دلچسپی لیتے رہے ہیں اور جی بی انتخابات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ معروف سیاسی مبصر احمد بلال محبوب کے مطابق گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں نواز شریف کی براہِ راست دلچسپی ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ ماضی میں وہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں کی انتخابی مہمات میں براہِ راست متحرک کردار ادا کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔سیاسی ماہرین کے مطابق اگر نواز شریف انتخابی سرگرمیوں میں اسی انداز سے متحرک رہتے ہیں تو یہ مستقبل میں قومی سیاست میں ان کے زیادہ فعال کردار کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی، سیاسی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، مسلم لیگ (ن) اپنے سب سے تجربہ کار سیاسی رہنما کو دوبارہ عوامی سطح پر متحرک کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان انتخابات دراصل نواز شریف کی سیاسی مقبولیت اور تنظیمی اثر و رسوخ کا ایک عملی امتحان بھی ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو اسے نواز شریف کی فعال شمولیت کی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر نتائج توقعات کے برعکس آئے تو ان کی سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
دوسری طرف گلگت بلتستان کی سیاست خود بھی کئی اہم عوامل سے متاثر ہو رہی ہے۔ آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، سی پیک، معدنی وسائل، نوجوانوں کے روزگار، سیاحت اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل اس بار انتخابی مہم کے مرکزی موضوعات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی جماعتیں اس انتخاب کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں نواز شریف کی براہِ راست شمولیت پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے اور ووٹرز کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان انتخابات صرف نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طاقت، حکمت عملی اور مستقبل کی سیاست کا امتحان بھی بن چکے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج نہ صرف گلگت بلتستان کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کر سکتے ہیں کہ آیا نواز شریف واقعی فعال سیاست میں مکمل واپسی کی طرف بڑھ رہے ہیں یا پھر ان کا کردار بدستور پارٹی سرپرست اور رہنما تک محدود رہے گا۔ 7 جون کے نتائج شاید اس سوال کا پہلا واضح جواب فراہم کر دیں گے جس پر ملکی سیاسی حلقوں میں کئی ماہ سے بحث جاری ہے۔
