حکومت کا چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت میں مزید توسیع پر غور

حکومت نے چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت میں مزید چار سال کی توسیع پر غور شروع کر دیا، ان کے عہدے کی مدت 26 جون کو ختم ہو رہی ہے، یہ بات پیمرا کے برطرف جنرل منیجر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئی جس میں مرزا سلیم بیگ کے بطور چیئرمین پیمرا تقرر کو چیلنج کیا گیا۔
کراچی حملے میں خاتون کو استعمال کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
مرزا سلیم بیگ کو جون 2018 میں عبوری حکومت کے دوران اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، گزشتہ سال اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق سلیم بیگ کے پاس عہدے کیلئے مطلوبہ تعلیمی قابلیت نہیں تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے پیر کو درخواست پر دوبارہ سماعت شروع کی۔ سماعت کے دوران جب جسٹس فاروق نے پیمرا کے قانونی مشیر سے توسیع کے بارے میں پوچھا تو جواب دیا کہ وہ اتھارٹی سے مطلوبہ معلومات لے سکتے ہیں۔
اس کے بعد عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ 15 دن کے اندر اس معاملے پر رپورٹ پیش کریں، وزارت اطلاعات نے 27 مئی کو وزارت قانون و انصاف سے چیئرمین پیمرا کے دوبارہ تقرر کے طریقہ کار کے بارے میں رائے طلب کی تھی، وفاقی حکومت اس کارروائی کا آغاز اشتہار کے ذریعے کرے گی یا کابینہ کی منظوری کے لیے سمری بھیجی جائے گی۔
وزارت قانون نے پاکستان کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے کمشنر کے دوبارہ تقرری کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں طے شدہ مذکورہ بالا اصول کی مشابہت پر رائے دی کہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آرڈیننس کے سیکشن 7 کے تحت حوالہ دینے والا ڈویژن اشتہار کے عمل میں جائے بغیر موجودہ چیئرمین کو دوبارہ تعینات کر سکتا ہے۔
سابق سیکریٹری اطلاعات شفقت جلیل نے بھی کہا کہ دوبارہ تقرری اور توسیع ایک جیسی ہے، حکومت امیدواروں سے درخواستیں طلب کیے بغیر اور کسی مسابقتی عمل کے بغیر چیئرمین کا دوبارہ تقرر کر سکتی ہے۔ان کے بقول چونکہ چیئرمین کا تقرر ضابطہ اخلاق مکمل اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد کیا جاتا ہے، اس لیے ان کی اہلیت پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور انہیں دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، پیمرا کے جنرل منیجر محمد طاہر نے ڈان کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پیمرا کے سربراہ کے تقرری کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کی ہے جو کہ حکومت کا خصوصی دائرہ اختیار تھا جب کہ صدر مذکورہ تقرری کی حتمی منظوری دیتے ہیں۔
