نئے چیئرمین نیب پرPPP اورPMLN میں کیا پھڈا ہے؟

عمران خان کے دور حکومت میں سرکاری ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو عہدہ چھوڑے کئی روز گزر گئے لیکن دو بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں نئے چیئرمین کے نام پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک یہ عہدہ خالی پڑا ہے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مقبول باقر کا نام تجویز کیا گیا تھا لیکن وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس نام کی سکیورٹی کلیئرنس دینے پر تیار نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے تمام اتحادی جماعتوں نے جسٹس مقبول باقر کے نام پر اتفاق کرتے ہوئے انہیں اس عہدے کے لیے موزوں ترین انتخاب قرار دیا تھا۔ لیکن مسئلہ تب ہوا جب شہباز شریف نے بلاوجہ اسٹیبلشمنٹ سے اس نام کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ حرکت کرنے کی ضرورت نہیں تھی خصوصاً جب قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے مابین اس نام پر اتفاق ہوچکا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو بتایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ جسٹس مقبول باقر کا جسٹس قاضی فائز عیسی سے گہرا تعلق ہے جو سال 2023 میں چیف جسٹس آف پاکستان بننے جارہے ہیں، ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک ہی مزاج اور اصولوں کے حامل دو جج صاحبان کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
بلوچ قوم پرست چینیوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟
تاہم پیپلز پارٹی جسٹس مقبول باقر کو نیا چیئرمین نیب بنانے پر مصر ہے۔ اس کا موقف ہے کہ جسٹس جاوید اقبال جیسا کوئی کمزور شخص دوبارہ چیئرمین نے بنایا گیا تو وہ آئندہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں اسی طرح استعمال ہوتا رہے گا، لہذا اتحادیوں میں ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ نواز کی جانب سے سابق بیوروکریٹ آفتاب سلطان کا نام دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں جسٹس جاوید اقبال نے قومی احتساب بیورو کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا اور حزب اختلاف کے رہنماوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر حکومتی ایجنڈا آگے بڑھاتے رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سابق چیئرمین نیب کے دور میں سابق وزرائے اعظم، اساتذہ، بیوروکریٹس، میڈیا مالکان اور کاروباری افراد پر جو سینکڑوں کیسز بنے اور گرفتاریاں ہوئیں انہیں مخالفین کے خلاف سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جاوید اقبال اپنے عہدے کی مدت اکتوبر 2021 میں پوری کر چکے تھے مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے متنازع صدسرتی آرڈیننس کے ذریعے نئے چیئرمین کی تعیناتی تک ان کے کام جاری رکھنے کی گنجائش نکالی تھی۔ مگر اس آرڈیننس کی مدت ختم ہوتے ہی چئیرمین نیب کی کرسی بھی خالی ہو گئی ہے۔ جاوید اقبال کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی مسلم لیگ نواز کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 8 اکتوبر 2017 کو کی تھی پھر وہ وقت بھی آیا کہ جاوید اقبال ہی کے دور میں شاہد خاقان عباسی پر نیب کیس بنا اوروہ گرفتار بھی ہوئے، اسی لیب اب شاہد خاقان عباسی اس ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں، وہ اپنے کیرئیر کے بیشتر دورانیے میں تنازعات کا شکار رہے، پرویز مشرف کے دور حکومت میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کیساتھ کئی متنازع اقدامات کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ اکتوبر 2017 کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے چند ہی ماہ بعد چیئرمین نیب کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک اخباری کالم کی بنیاد پر انہوں نے نوازشریف کے خلاف 4.9 ارب ڈالرز انڈیا بھجوانے کی شکایات کا نوٹس لیا اور باقاعدہ نیب کا اعلامیہ جاری کر دیا۔ لیکن سچ سامنے آنے پر نیب کو اپنے کیے پر معافی مانگنا پڑی۔
مئی 2019 میں چئیرمین نیب ایک بار پھر بڑے تنازع کا شکار ہوئے جب ایک مقامی ٹی وی نے ان کی ایسی ویڈیو اور آڈیو نشر کی جس میں ان کو ایک سائلہ خاتون سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، نیب کی جانب سے اس ویڈیو اور آڈیو کو جھوٹ قرار دیا گیا۔ چئیرمین نیب کو اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت کے خلاف مالم جبہ اور ہیلی کاپٹر کیس بند کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے دور میں لاہور میں اساتذہ کو ہتھکڑیوں میں لانے کی ویڈیو پر بھی خاصی تنقید ہوئی تھی، گزشتہ برس نومبر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ نیب کی جانب سے 821 ارب روپے کی ریکوری کی گئی جبکہ قومی خزانے میں صرف 6.5 ارب روپے جمع کرائے گئے ہیں۔
اس حوالے سے چئیرمین نیب نے وضاحت کی کہ کوئی ایسا قانون نہیں کہ جو نیب کو مجبور کرے کہ ریکور ہونے والی رقم فنانس ڈویژن میں جمع کرائیں، اس رقم پر حکومت کا حق نہیں، یہ متاثرین کی رقم تھی۔
کرپشن کے حوالے سے کئی عشروں تک رپورٹنگ کرنے والے انصار عباسی کے مطابق بطور چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا دور نیب کا تاریک ترین دور تصور کیا جاتا ہے، ان کے دور کو احتساب کی ناکامی کے کیس سٹڈی کے طور پر لیا جانا چاہئے کیونکہ ان کے دور میں مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے پی ٹی آئی حکومت نے نیب کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ نیب کی حراست میں اموات ہوئیں اور ایک سابق بیوروکریٹ بریگیڈیئر اسد منیر نے مبینہ طور پر جھوٹے نیب کیس کی وجہ سے خودکشی کرلی، چئیرمین نیب نے کمزور کیسز پر گرفتاریاں کیں جو بعد میں ثابت نہ ہو سکے، اس میں بیوروکریٹس جیسے فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے علاوہ بزنس سے وابستہ افراد جیسے میر شکیل الرحمان کو صرف شکایت کی بنا پر کئی ماہ حراست میں رکھا جو درست بھی ثابت نہیں ہوئی۔
اس کے برعکس نیب ترجمان نواز علی عاصم کے مطابق جسٹس جاوید اقبال کے دور میں کرپشن کیخلاف تاریخی پیش رفت ہوئی، اکتوبر 2017 سے دسمبر 2021 تک مجموعی طور پر بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 584 ارب روپے ریکور کیے گئے، گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں، نیب کی شاندار کارکردگی کو معتبر قومی و بین الاقوامی اداروں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے سراہا ہے، اس وقت ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1237 ریفرنسز زیر سماعت ہیں، جن کی مالیت تقریباً 1335.019 ملین روپے ہے۔
