فوج کو سیاست میں گھسیٹنے والے عمرانڈو جرنیل کون ہیں؟

ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز veterans آف پاکستان نے یہ ہوشربا دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ان سے ایک خصوصی ملاقات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ 90 روز کے اندر ملک میں نئے الیکشن کروا دیں گے، لہذا اب انہوں نے جنرل باجوہ کو وعدہ یاد دلاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تین ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ تاہم ریٹائرڈ جرنیلوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ غیر آئینی مطالبہ گریڈ 22 کے سرکاری ملازم سے کس حیثیت میں کیا تھا اور اگر انہیں اس حوالے سے کوئی یقین دہانی ملی تھی تو وہ کس حیثیت میں دی گئی تھی؟

درست ٹیم کا انتخاب نہ کرنا عمران کی بڑی غلطی تھی

یاد رہے کہ آرمی چیف سے اسمبلیاں تحلیل کرکے فوری انتخابات کروانے کا مطالبہ کرنے والی ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز آف پاکستان لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یٰسین ملک جیسے سازشی جرنیلوں پر مبنی ہے جو ماضی میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتوں کے خلاف دوران سروس سازشیں کرتے رہے ہیں۔ یہ تنظیم بھی ایکس سروس مین سوسائٹی کی طرح ریٹائرڈ فوجیوں کے ایما پر عمران خان کو دوبارہ برسر اقتدار لانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور پشاور سے مسلسل فیض حاصل کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ اسوقت طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جن میں سے ایک غیر سیاسی ہونے پر زور دے رہا ہے جبکہ دوسرا دھڑا سیاست میں فوج کی مداخلت پر برقرار رکھتے ہوئے عمران کو دوبارہ سے اقتدار میں لانا چاہتا ہے۔ ریٹائرڈ فوجیوں کی دو بڑی تنظیمیں ویٹرنز آف پاکستان اور ایکس سروس مین سوسائٹی فوج کے سیاسی کردار پر مصر ہیں کیونکہ اس کے کرتا دھرتا وہی جرنیل ہیں جو ماضی میں بھی جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کے ساتھ رہے ہیں۔ تاریخ کے ان مکروہ کرداروں میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک نمایاں ہیں۔ یہ دونوں جرنیل عمرانڈوز ہیں اور چئیرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ان کا خصوصی تعلق ہے۔

چنانچہ 7 جون کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان دونوں مکروہ کرداروں نے فوجی قیادت سے اسمبلیاں تحلیل کر کے فوری انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت ان انتخابات کی نگرانی کرے۔
ویٹرنز آف پاکستان نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر نیوز کانفرنس میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’رانا ثنا اللہ خان مجرمانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔‘ تاہم جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا سابق وزیر داخلہ شیخ رشید مجرمانہ ذہنیت نہیں رکھتے تھے تو بتایا گیا کہ اس پریس کانفرنس میں سوالات کرنا منع ہے۔

اس موقع پر پاکستان آرمی کے پہلے لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے عمرانڈو بریگیڈیئر میاں محمود نے کہا کہ ’ہم لوگوں کی عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد جنرل قمر باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی اور ہم نے انہیں کہا تھا کہ 90 دن میں الیکشن کرائے جائیں۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ 90 دن میں الیکشن ہوں گے لہذا اب وہ اپنا وعدہ پورا کریں۔‘ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے یہ مطالبہ کس حیثیت میں کیا اور آپ سے وعدہ کس حیثیت میں کیا گیا تو صحافیوں کو یاد دلایا گیا کہ اس پریس کانفرنس میں سوالات نہیں ہو سکتے۔ اس موقع پر عمرانڈو جرنیل علی قلی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ ’پاکستان کو امریکی تھریٹ کا سامنا ہے۔ پاکستان کے اندر سے کچھ لوگوں نے امریکی سازش کا ساتھ دیا تھا جنکے نام نہیں لینا چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے آنے والے خط پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ چیف جسٹس اور جنرل باجوہ سمیت سب کی ذمہ داری ہے کہ خط کو دیکھیں۔ جب ایک صحافی نے انہیں یاد دلایا کہ یہ خط امریکہ سے نہیں آیا بلکہ پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید خان نے لکھا تھا تو جواب ملا کہ اس پریس کانفرنس میں سوالات کرنا منع ہے۔

اس موقع پر پاکستانی تاریخ کے ایک اور مکروہ سازشی کردار سابق سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’25 مئی کو عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش اور تشدد کی تحقیقات کروائی جائیں، رانا ثنا اللہ خان کو برطرف کیا جائے، فوری ایکشن کروائے جائیں اعر سپریم کورٹ نئے الیکشن کی نگرانی کرے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے خلاف جاری ایف آئی اے کے کیسز میں مانیٹرنگ جج مقرر کیا جائے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ مطالبات کن سے کر رہے ہیں اور کس حیثیت میں کر رہے ہیں تو جواب ملا کہ اس پریس کانفرنس میں سوالات کرنے کی اجازت نہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران سوالات کے جواب دینے سے انکاری رہنے والے علی قلی خان اور آصف یاسین ملک کو جب سینئیر صحافی اعزاز سید نے بعد میں سوالات کرنے کی کوشش کی تو انہیں اپنے نماز جنازہ کی تیاری کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں جنرل علی قلی خان کو اس لیے آرمی چیف نہیں بنایا گیا تھا کہ وہ ایک سیاسی جرنیل کے طور پر جانے جاتے تھے جو منتخب حکومتوں کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ موصوف گندھارا موٹرز کے مالک ہیں اور ارب پتی ہیں۔ اسی طرح سابق سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک کا ماضی بھی داغدار ہے۔ جب مئی 2001 میں ایبٹ آباد میں اسامہ کے ٹھکانے پر حملہ ہوا تھا تو وہ کور کمانڈر پشاور تھے لیکن موصوف نے حملہ روکنے میں اپنی ناکامی پر استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ 7 جون کو ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد آصف یاسین ملک نے نہ صرف اعزاز سید کو دھمکیاں دی بلکہ مطیع اللہ جان کے ساتھ بھی دھمکی پیل کی۔

جب ریٹائرڈ جرنیلوں کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے عسکری ذرائع سے رابطہ کیا گیا کہ جنرل باجوہ نے 90 روز میں نئے الیکشن کروانے کا وعدہ کیا تھا، تو بتایا گیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور ویٹرنز آف پاکستان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طریقہ کار کے مطابق ویٹرن آف پاکستان تنظیم بنانے کے لیے جی ایچ کیو کی منظوری ضروری ہے۔ لیکن ایسی تنظیم کا کردار ریٹائرڈ افسران کی فلاح و بہبود سے متعلق ہوتا ہے اور ایسی تنظیم کسی بھی حالت میں کسی سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ تمام ریٹائرڈ فوجی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہیں۔ وہ اپنی سیاسی جماعت بھی بنا سکتے ہیں یا کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں لیکن ریٹائرڈ آرمی افسران کے پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کیا کر رہی جرنیلوں کی تنظیموں کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تو پھر ایک سروس مین سوسائٹی آف پاکستان اور ویٹرنز آف پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی خصوصا جب وہ آرمی چیف کا نام لے کر حساس اور متنازعہ دعوے کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 7 جون کو ریٹائیرڈ آرمی افسران کے ساتھ نیوی اور ائیر فورس کے ریٹائرڈ افسران بھی بیگمات اور اہل خانہ کے ہمراہ پریس کلب میں موجود تھے۔ پہلے پریس کانفرنس پریس کلب کے اندر ہونا تھی لیکن پھر بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پریس کلب کے اندر پریس کانفرس نہیں کی گئی۔ ویٹرن آف پاکستان کی بیگمات نے دعویٰ کیا کہ پریس کلب انتظامیہ نے دباؤ میں آ کر انہیں اندر جگہ نہیں دی لیکن اس معاملے پر جب پریس کلب کے صدر انور رضا سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا یہ غلط الزام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان ویٹرنز پریس کلب کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے اور کسی بھی جماعت یا گروپ کو پریس کلب کے اندر نعرے بازی کی اجازت نہیں ہے۔

Back to top button