آئی ایم ایف معاہدے کے پیش نظر حکومت کا این ایف سی فارمولے میں رد و بدل کا امکان

وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، این ایف سی ایوارڈ کی نئی تشکیل اور اجلاسوں کے مسلسل التوا کے باعث وفاقی حکومت مختلف متبادل آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ مالی وسائل کی تقسیم کو موجودہ اقتصادی حالات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
وفاقی حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر دو تجاویز زیر غور ہیں:
صوبوں کے حصے میں کمی کی جائےیا پھر صوبوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور دیگر وفاقی اداروں کے اخراجات میں شراکت پر آمادہ کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ این ایف سی کے تحت موجودہ فارمولا صرف تمام فریقین کی باہمی رضامندی سے ہی تبدیل ہو سکتا ہے، اس لیے وفاقی حکومت کی اولین کوشش ہوگی کہ صوبوں کو موجودہ 57.5 فیصد حصے (جو سبسڈی اور گرانٹس کے بعد تقریباً 62 فیصد تک پہنچ جاتا ہے) میں کمی یا اخراجاتی شراکت کے لیے قائل کیا جائے۔
اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو وفاق ممکنہ طور پر مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فارمولے میں تبدیلی کی راہ اپنا سکتی ہے۔
آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدے کے تحت صوبے پہلے ہی کچھ وفاقی اخراجات کی منتقلی پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں، اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی یقین دہانی بھی کروا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، مالی سال 2025-26 کے دوران وہ ترقیاتی منصوبے (PSDP) جو کسی ایک صوبے تک محدود ہوں گے، ان کی مالی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی، اور انہیں اپنے بجٹ سے فنڈ کرنا ہوگا۔
