نا اہلی قانون ختم کرنے کے لیے حکومت کی اپوزیشن کو آفر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں تاحیات نااہلی کا قانون ختم کے لئے کے پٹیشن دائر ہونے کے بعد اب اٹارنی جنرل فار پاکستان نے بھی اپوزیشن قیادت کو اس قانون کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ میں ڈائیلاگ کی پیشکش کر کے ایک بڑا سیاسی دھماکہ کردیا ہے۔ چونکہ اس قانون کے خاتمے سے عمران خان کے دو بڑے سیاسی مخالفین نواز شریف اور جہانگیر ترین کو فائدہ پہنچے گا، لہذا سوال یہ ہے کہ کیا اٹارنی جنرل کی پیشکش کو وزیر اعظم کی آشیربادحاصل یے یا نہیں؟
بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے تاحیات نااہل کا قانون ختم کرنے کی تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اسکے خلاف عدالت عظمیٰ پہنچ گئی ہے لہذا لگتا ہے کہ حکومت کو اس قانون کے کالعدم ہونے کا خدشہ ہے اس لیے سبکی سے بچنے کے لیے اپوزیشن کو یہ قانون ختم کرنے کی دعوت دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ تاہم اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹیشن دائر ہونے کے بعد اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور اس معاملے کا فیصلہ اب عدالت ہی کرے گی۔
یاد رہے کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اپوزیشن کو نااہلی قانون کے خاتمے کی پیش کش کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو سیاسی معاملات میں نہیں الجھانا چاہیے کیونکہ یہ ایک سیاسی ایشو ہے، انکا کہنا تھا کہ نااہلی قانون کے خاتمے کی درخواست پر سماعت ہی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس درخواست کی کوئی گراوَنڈ ہی نہیں بنتی، ہمیں غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا، نااہلی کی مدت سے متعلق قانون سازی کیلئے بہترین فورم پارلیمنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لہذا اپوزیشن نااہلی کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانے کی بجائے پارلیمان میں لائے، حکومت اس پر غور کرنے کیلئے تیارہے۔
شیخ رشید کا کابینہ میں متوقع تبدیلیوں سے لاعلمی کا اظہار
یاد رہے کہ موجودہ ہائیبرڈ نظام حکومت میں سلیکٹڈ کہلانے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا دفاع کرنے والے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما پروفیسر این ڈی خان کے صاحبزادے خالد جاوید خان نے پچھلے دنوں بطور اٹارنی جنرل سو سال پورے ہونے پر مستعفی ہونے کا عندیہ دیا تھا لیکن پھر کپتان کے اصرار پر واپس لے لیا۔
این ڈی خان کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے میں نا اہلی سے متعلق آرٹیکل 62 ون ایف آئین میں ہونا ہی نہیں چاہیے، اپوزیشن اس قانون کو پارلیمنٹ میں لے کر آئے، میں حکومت کی طرف سے پیشکش کرتا ہوں کہ ہم مل جل کر اس قانون کے خاتمے پر غور کیلئے تیار ہیں، یہ ایک جماعت کا ایشو نہیں ہے، بلکہ پورے ملک اور تمام جماعتوں کا ایشو ہے۔
واضح رہے کہ 27 جنوری کو سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے جس میں اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نااہلی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے اور آرٹیکل 3/184 کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ بطور ٹرائل کورٹ کے امور انجام نہیں دے سکتی۔
اس سلسلے میں موقف اختیار کیا گیا کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ملتا اور عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس کسی بھی پارلیمنٹرین کو نااہل قرار دینے کا اختیار موجود نہیں اور یہ فیصلہ صرف اور صرف الیکشن کمیشن پاکستان کر سکتا ہے۔
