حکومت جج کیخلاف ریفرنس دائر کرنے سے پیچھے ہٹ گئی

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے شدید احتجاج کے بعد وفاقی حکومت سینئر صحافی محسن بیگ کے کیس کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ہے. خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ایک روز قبل صحافی محسن بیگ کے گھر چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن سے سخت ردعمل جاری کرتے ہوئے اسے عدلیہ، قانون کی حکمرانی پر شب خون قرار دیا۔

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سیشن جج کے خلاف ریفرنس کا مقصد حکومت کی جانب سے عدالتوں اور انصاف پر شب خون مارنا ہے، حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل کا جج پر غیرذمہ دارانہ اور تضحیک آمیز رویہ قابل مذمت ہے، یہ اقدام عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر شب خون اور من پسند فیصلوں کے حصول کی خواہش ہے، ضلعی عدلیہ کے شریف النفس جج کے خلاف تضحیک آمیز رویہ قابل مذمت اور ناقابلِ برداشت ہے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر جج کے خلاف کوئی ریفرنس آیا تو بار اس میں فریق بنے گی، بار ایڈیشنل سیشن جج کے جرات مندانہ فیصلہ کو تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے اور حکومت کے اس اقدام کو من پسند فیصلوں کے حصول کی خواہش تصور کرتی ہے، کسی بھی ادارے یا آفس کو عدلیہ پر شپ خون مارنے کے لیے بار کی مضبوط رکاوٹ عبور کرنا پڑے گی۔اعلامیے میں مزید کہا کہ بار اگر چہ بہت سے معاملات میں عدلیہ سے مایوس، دکھی ہے اس کے باوجود اختلاف سے بالا تر قانون کی عمل داری کی حفاظت کرے گی، ماضی میں صحافتی برادری بار کے عدلیہ کے ساتھ تلخ معاملات میں موقف پیش کرنے سے قاصر رہی۔

اسلام آباد بار کی جانب سے ہونے والی شدید مخالفت کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید نے وضاحت کی کہ حکومت نے ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی وزیراعظم نے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی اور نہ اس سارے معاملے سے اُن کا کوئی تعلق ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلوں کیخلاف ریفرنس دائرنہیں ہوسکتے البتہ فیصلے کیخلاف اپیل کرنا پراسیکیوشن کا حق ہے جسے استعمال کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ محسن بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیرقانونی قرار دینے والے ایڈیشل سیشن جج کے خلاف ریفرنس فائل نہیں کیا جا رہا، اس ضمن میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، تاہم اگر حکومت چاہے تو (فیصلے کے خلاف) اپیل کی جا سکتی ہے۔

جب اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے سامنے وزیراعظم سے ملاقات میں ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی بات رکھی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں کچھ غلط فہمی ہو گئی ان کو، انفرادی کیسز کو ڈسکس کرنا وزیراعظم کا کام نہیں ہے، شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، جو انہوں بات کہہ دی تھی۔‘انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایڈووکیٹ جنرل سے ملاقات کے دوران مس کنڈکٹ یا ریفرنس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

پشاور: پولیس سٹیشن پر دستی بموں سے حملہ، 3 اہلکار زخمی

خالد جاوید خان نے بتایا کہ ملاقات میں وفاق کے زیر التوا کیسز کے بارے میں عام باتیں ہوئیں، ریفرنس کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔جب ان سے دریافت کیا گیا کہ اگر ریفرنس دائر نہیں کیا جا رہا تو پھر اپیل ہی کی جائے گی؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اگر وہ (ایڈووکیٹ جنرل) چاہیں تو اپیل کر سکتے ہیں، یہ ان کی صوابدید ہے۔مس کنڈکٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے ذہن کے مطابق یہ واضح ہے کہ اس طرف نہیں جایا جائے گا۔

خیال رہے جمعرات کو پی ایم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی کی ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد اٹارنی جنرل آفس کے ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت نے محسن بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے کہا تھا کہ ’وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانون سے باتر نہیں، محسن بیگ نے اہلکاروں پر فائرنگ کی جبکہ ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں جو کچھ لکھا ہے وہ مینڈیٹ سے تجاوز ہے۔ جب بندہ آپ کے سامنے آ گیا تو آپ کا مینڈیٹ ختم ہو گیا۔‘ایڈووکیٹ جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف انتظامی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دی جائے گی اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کارروائی کی درخواست کریں گے۔

یاد رہے بدھ کو ایف آئی اے کی جانب سے تجزیہ کار اور میڈیا مالک محسن کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور مزاحمت پر ان کے خلاف اقدام قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر ایڈیشنل سیشن جج نے چھاپے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

بدھ کو اسلام آباد کی ایک عدالت نے محسن بیگ کی گرفتاری کے خلاف دائر ایک پیٹیشن پر سماعت کے بعد جاری ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے میں کہا تھا کہ چھاپہ مار ٹیم میں جو لوگ شامل تھے انہیں ایسی کسی بھی کارروائی کا اختیار حاصل ہی نہیں تھا۔

ایڈیشنل سیشن جج نے ظفر اقبال نے اپنے فیصلے میں سوال اٹھایا تھا کہ محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے لاہور نے 9 بجے مقدمہ درج کیا 10 بجے ٹیمیں اسلام آباد کیسے پہنچی؟ فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ اسلام آباد پولیس کو محسن بیگ کے بجائے غیر قانونی طور پر چھاپہ مارنے والوں کے خلاف غیر قانونی چھاپہ مارنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے تھی ۔

Back to top button