اداکار محسن عباس نے لڑکیوں سے توبہ کیوں کر لی؟

طلاق یافتہ اداکار اور گلوکار محسن عباس حیدر نے بالآخر لڑکیوں کیساتھ تعلقات سے توبہ کرتے ہوئے زندگی تنہا گزارنے کا اعلان کر دیا ہے، سوشل میڈیا پر اپنے مختصر پیغام میں گلوکار نے بتایا کہ اب میری زندگی میں لڑکیوں کی مداخلت کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے، میں اب خود کو ماؤں اور بہنوں تک محدود رکھوں گا۔
تاہم سوشل میڈیا پر محسن عباس کی اس پوسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ محسن عباس نے 15 فروری کو فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے تنہا زندگی کو بے فکر زندگی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی زندگی میں اب لڑکیوں کی مداخلت کی گنجائش نہیں، اور ان کا میری زندگی میں آنا منع ہے۔ محسن عباس حیدر نے لکھا کہ ان کے پاس کسی خاتون سے تعلقات استوار کرنے یا کسی سے شادی کرنا کا وقت نہیں، ساتھ ہی گلوکار نے لکھا کہ اگر اس کے باوجود کوئی ان کی زندگی میں آنا چاہتی ہے تو وہ ان کی بہن، بیٹی اور ماں بن کرآ سکتی ہے۔
نجی ٹی وی کے انٹرٹیمنٹ شو میں گلوکاری سے نام بنانے والے محسن عباس حیدر کا کہنا تھا کہ وہ سکون کی زندگی اور پرسکون موت چاہتے ہیں، انکی اس پوسٹ پر بعض لوگوں نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے مگر جب ان کی پوسٹ کو دیگر شوبز پیجز نے شیئر کیا تو وہاں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
فرحان اختر کا 19 فروری کو دوسری شادی کرنے کا اعلان
بعض لوگوں نے گلوکار سے اتفاق کیا کہ عامر لیاقت کی طرح تین تین شادیاں کرنے سے تنہا زندگی گزارنا بہتر ہے تاہم کچھ افراد نے انہیں ذاتی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے سوال کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو شادی کے بغیر کیسا دیکھتے ہیں؟
بعض صارفین نے محسن عباس حیدر کی پوسٹ پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ان کی سابق اہلیہ اداکارہ فاطمہ سہیل کی جانب سے عائد کردہ گھریلو تشدد کے الزامات کا یاد دلایا۔ کچھ صارفین نے انہیں ایک بے وفا شوہر کا خطاب بھی دیا۔ یاد رہے کہ محسن عباس حیدر اور فاطمہ سہیل کے درمیان ستمبر 2019 میں طلاق ہوگئی تھی.
ان کا ایک بیٹا بھی ہے جو اب والدہ کے ساتھ رہتا ہے، طلاق ہو جانے کے بعد محسن حیدر کی سابق اہلیہ نے بھی اداکاری کی دنیا میں انٹری دے دی تھی، خلع لیتے وقت فاطمہ سہیل نے محسن عباس حیدر پر گھریلو تشدد کے سنگین الزامات لگائے تھے، جنہیں اداکار نے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم ان الزامات کے بعد محسن عباس حیدر کو دنیا ٹی وی کے پروگرام سے الگ کر دیا گیا تھا۔
