سپریم کورٹ کے 15ججز میں کون کس کے ساتھ ہے

نیازی نے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ دو واضح گروپس میں تقسیم ہوچکی ہے ایک چیف جسٹس کی سربراہی میں اور دوسرا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خیالات کا حامی ہے .سپریم کورٹ کے اندر دھینگا مشتی زوروں پر ہے کہ 15 رُکنی سپریم کورٹ میں کون کہاں کھڑا ہے؟ اور 3 رُکنی فیصلے کو باقی 12 ججز میں سے کِتنوں کی حمایت حاصل ہے ؟. اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی تقسیم قریہ قریہ زیر بحث ہے۔ 3ججز کا فیصلہ مانا جائے یا 4 ججز کا؟ سپریم کورٹ کے 4 ججز کا سوموٹو خارج ہونے پر اصرار ہے جبکہ 3 ججز الیکشن کروانے پر مصر ہیں ملک کے طول و عرض میں جہاں تین رُکنی بینچ پر عدم اعتماد کیا گیا ہے وہاں فُل کورٹ کی استدعا بھی ساتھ منسلک ہے۔ مسلۓ کا آسان حل تو فُل کورٹ بنانے میں تھا مگر معلوم نہیں چیف جسٹس نے فُل کورٹ کو اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنایا ؟ شایدوہ فُل کورٹ کا اعتماد کُھو چکے ہیں؟ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ وطن ِعزیز آج جہاں کھڑا ہے یہ گُتھی بڑی عرق ریزی سے اُلجھائی گئی جو کسی طور سُلجھنے کو نہیں ۔ اس کے ذمہ داروں کا تعین اگلی کئی دہائیوں تک نہ ہو پائے گا ۔ ملک آج ایک بار پھر بند گلی میں جا پہنچا ہے ، بحران کا حل آئین میں ہے نہ ماورائے آئین اقدامات میں۔ سپریم کورٹ کے موجودہ متنازع فیصلے کی واحد وجہ چیف جسٹس کا انتظامی انچارج ہونا ہے جو ملک کے بگاڑ اور افراتفری کے عمل کو تیز کرچُکا ہے۔ پنجاب میں انتخابات کے التوا پر ازخود نوٹس کا 9 رُکنی بینچ مختصر ہو کر 3 رُکنی ضرور رہ گیا ۔ مگر کمال بے نیازی سے3 رُکنی بینچ پاکستان کی چولیں ہلانے والا فیصلہ دینے میں نہ ہچکچایا۔جو فیصلہ سُنایا گیا توقع کے عین مطابق تھا جس کے پہلے سے چرچے چار سُو تھے۔

مزید حیران کُن بات یہ ہوئی کہ جہاں 3 ججز نے الیکشن کروانے کا حکم صادر فرمایا وہاں سپریم کورٹ نے ملکی ایگزیکٹو اور الیکشن کمیشن کا ہر طرح کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ حفیظ الله نیازی کے مطابق 3 رُکنی بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن کا ہونا ایک اور وجہ نزاع بنا ، شکوک و شبہات مستحکم ہوئے ۔ فیصلے نے پاکستان میں تفریق اور دھینگا مشتی کا ماحول مزید گرما دیا۔ حکومت نے فیصلہ یکسر مسترد کردیا ہے ۔ عنقریب سپریم کورٹ بمقابلہ حکومت آمنے سامنے، روح فرسا مناظر دیکھنے کو ملنے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا کہ جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ پر بٹھا کر انہوں نے خاموش پیغام دیا ہے ۔ خاموش پیغام کا اشارہ کس کے لئے تھا . اس سے پہلے پنجاب حکومت کو ختم کرنے کے لئے اِنہی تین ارکان نے جب فیصلہ سُنایاتو ساتھی جج نے برملا کہاکہ’’یہ ماورائے آئین قدم ہے، آئین دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے‘‘۔

چیف جسٹس صاحب نے اس موقع پر مرضی کے جج نہ ملنے پر تبصرہ کیا کہ’’ پنجاب میں حکومت ختم ہونے کا بدلہ لیا گیاہے‘‘۔ مجھے نہیں معلوم چیف صاحب کے پہلے والے اور یہ ریمارکس کوڈ آف کنڈکٹ میں آتے ہیں یا نہیں، البتہ ان فیصلوں نے مملکت کا باجا بجا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جو شُعلہ نکلا ہے وہ جوالہ بننے کو ہے جو مملکت کو بھسم کر دے گا۔ حتمی بات یہ ہے کہ ریاست اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر جا پہنچی ہے.

اداکار سعود، اداکارہ جویریہ امریکہ دورہ پر کس مشکل میں پھنس گئے؟

Back to top button