سگِ لیلیٰ اور شیرو

تحریر: حماد غزنوی، بشکریہ :روزنامہ جنگ
عشق کا جہان نرالا ہے، اس کا اپنا آئین ہے، اپنے قوانین ہیں۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ عشاق ایک پیرلل یونی ورس کے مکین ہیں۔ ا س جہان کے ضوابط میں ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ محبوب سے نسبت رکھنے والے افراد و اشیاءبھی عزیز از جان ہو جاتے ہیں، سگِ لیلیٰ کا قصہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے،مولانا روم سے حکایت ہے کہ ایک بار مجنوں نے کہیں ایک کتا دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ تو لیلیٰ کی گلی کا کتا ہے، سو آگے بڑھ کر کتے کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا، دیکھنے والوں نے مجنوں سے کہا ایسے مردار خور اور ناپاک جانور کو چومتا چاٹتا ہے، دیوانہ ہو گیا ہے کیا؟ اس پر مجنوں نے کہا تمہیں کیا معلوم یہ کتا کون ہے اور میری نظر میں اس کا کیا مقام ہے، میں تو اس سے حسد کرتا ہوں کہ یہ لیلیٰ کی گلی میں رہتا ہے۔
یہ جہانِ عشق کا مسلم اصول ہے کہ جس شے کو محبوب کی نسبت حاصل ہو جائے محترم و معتبر ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر یہی اصول جہانِ سیاست پر لاگو کر دیا جائے تو معاشرے سے حسن و قبح، بلندی و پستی اور عزت و بے توقیری کے مروجہ معیار اتھل پتھل ہو کر رہ جائیں گے۔ جن لوگوں نے اپنی ساری زندگی ہمارے سامنے با وقار اور با کردار رہ کر گزاری ہے، ہم ان کی زندگی بھر کی تپسیا یہ کہہ کر بھرشٹ کر دیں کہ کیوں کہ آپ کا تعلق فلاں سیاسی جماعت سے ہے، اس لئے آپ اسفل السافلین کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں۔صد افسوس کہ بہ طورِ معاشرہ ہم نے کچھ ایسی ہی حرکت کی ہے۔ ہماری عقل کا عالم دیکھئے کہ پہلے ہم نے سیاست کو اندھی محبت اور اندھی نفرت میں بانٹا اور پھرعشق کا یہ اصول من و عن سیاست پر لاگو کر دیا۔اب عالم یہ ہے کہ مخالفین کی نظر میں نواز شریف کے سب حامی کرپٹ پٹواری ہیں اور عمران خان کے متوالے اخلاق باختہ یوتھیے۔ اب جس جس نے آپ کے سیاسی مرشد کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے وہی باکردار ہے، وہی جید عالم ہے، وہی معتبر صحافی ہے، وہی محب وطن ہے، وہی جری جرنیل ہے اور وہی عالی شان جج ہے۔
اب آپ ہی بتائیے کہ کیا عمران خان لوور ہونے کا یہ مطلب ہے کہ عثمان بزدار کی وزارتِ اعلیٰ کو پنجاب کا زریں ترین دور قرار دے دیا جائے، پرویز الٰہی کو آئین کا سب سے بڑا نگہبان مان لیا جائے، اور ہوا بازی کے سابق وزیر غلام سرور خان کو ملک کا خیر خواہِ عظیم تسلیم کر لیں؟ اگر ایسا کریں گے تو آپ اپنی عقل کی توہین کے مرتکب ہوں گے۔آپ کے مرغوب سیاسی راہ نما کے کھونٹے سے بندھنے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ لوگوں کی بداعمالیوں سے صرفِ نظر کر لیں۔اور اسی طرح اگر کسی صاحب نے آپ کے سامنے بااصول اور باوقار زندگی گزاری ہے تو وہ شخص با اصول اور با وقار ہی سمجھا جائے گا، خواہ وہ کسی بھی سیاسی نظریے سے تعلق رکھتا ہو۔مثلاً حامد خان یا جسٹس وجیہ الدین احمد کا صرف احترام ہی کیا جا سکتا ہے خواہ وہ پی ٹی آئی میں ہوں یا کسی اور جماعت میں۔یہی معاملہ میاں افتخار حسین، افراسیاب خٹک، پرویز رشید، رضا ربانی کا بھی ہے۔ اور بھی ایسے کئی دوست ہیں جن کے دامن پر نہ تو مال کی ناروا محبت کے چھینٹے ہیں، نہ جمہوریت شکنی کے دھبے۔ یہ وہ برہمن ہیں جو کعبے میں گاڑے جائیں گے، اصولوں پر کھڑے ہوئے لوگ، آئین پر ڈٹے ہوئے لوگ۔ صحافیوں کے ساتھ بھی ہمارا رویہ کچھ ایسا ہی ہے۔ جن صحافیوں نے ہمارے سامنے بیس تیس سال ہر طرح کی تحریص و ترغیب سے بچ کر اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کئے ان اصحاب کو ہم نے صرف اس لئے ’لفافہ‘ قرار دے دیا کیوں کہ وہ ہمارے محبوب قائد کے قصیدہ گو نہیں تھے۔
اب آ جائیے عدالتوں کی طرف۔سیاسی جماعتوں نے اپنا اپنا جج چن لیا ہے، اور پارٹی کے پیروکاروں نے اسی حساب سے ججوں کی ’عزت افزائی‘ کا اہتمام کر رکھا ہے۔یہ اندھی محبت اور نفرت کی بہترین مثال ہے۔ دوستو، ایک لمحے کو توقف کر کے یہ تو سوچ لیجئے کہ یہ جج کل تو نہیں پیدا ہوئے، انہوں نے تو آپ کے سامنے زندگی گزاری ہے، آپ ان کے کردار کی رفعتوں اور پستیوں سے آگاہ ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آدمی کی عمر بھر کی ریاضت آپ فقط اس لئے مسترد کر دیں کہ اس کے فیصلے آپ کو سیاسی طور پر فائدہ نہیں پہنچا رہے۔ مثلاً پندرہ قاضیوں میں سے ایک قاضی ایسا ہے جس کے اثاثے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جگ مگا رہے ہیں، جس نے ریاست سے کبھی کوئی پلاٹ نہیں لیا، جس نے تحفے میں ملنے والا گل دان بھی توشہ خانے میں جمع کروا دیا، جس کو حال ہی میں سپریم کورٹ نے دعوت دی کہ آپ کی سات سال پرانی گاڑی تبدیل کر دیتے ہیں اوراس نے جواب دیا ’نو تھینک یو‘۔ ہمارے اندر تو یہ جرات نہیں کہ ہم ایسے شخص کی مخالف سمت میں کھڑے ہو جائیں۔ باکردار لوگوں کا حق ہے کہ سارا معاشرہ بلا سیاسی تفریق ان کا احترام کرے۔اگر ہم اہل حق کا ساتھ چھوڑ کر اہل ٹرک کا ساتھ اس لئے دیں کہ ان کے کسی فیصلے سے ہمارے محبوب قائد کو کچھ وقتی فائدہ حاصل ہو رہا ہے تو یہ خوف ناک رویہ ہے۔ اپنے باکردار لوگوں سے ایسا سلوک کرنے والے معاشرے بنجر ہو جاتے ہیں، پھروہاں اعلیٰ آ دمی پیدا نہیں ہوتے، یہ قدرت کا اصول ہے۔
با کردار آدمی کی عزت کریں چاہے وہ مخالف صف میں کھڑا ہو۔ عشق کے اصول جہانِ عشق تک محدود رکھئے۔یاد رکھئے جہانِ سیاست و معاشرت میں کسی کتے کے پاﺅں چاٹنا جہالت ہے، خواہ وہ سگ لیلیٰ ہو یا ’شیرو‘۔
