حمزہ کی وزارت اعلیٰ کے خاتمے کیلئے عدالت سے رجوع کا فیصلہ

تحریک انصاف نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے خاتمے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ہٹانے کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے جارہے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہناتھا سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح ہے کہ کوئی بھی پارٹی کے ارکان لوٹے نہیں ہوسکتے اور اگر کوئی رکن پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کے حکم کے خلاف ووٹ دے گا تو وہ شمار نہیں ہوگا، یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم فیصلہ ہے، اس کے نتیجے میں لوٹا کریسی کا خاتمہ ہوا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھااس فیصلے کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی کے حمزہ شہباز کے ووٹوں سے 25 ووٹ کی کمی ہوئی ہے، اس وقت پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے پاس اراکین کی تعداد 173 ہے اور حمزہ شہباز کے پاس 172 ووٹ ہیں، آئین کے مطابق وزارت اعلیٰ کا پہلا انتخاب ختم ہوچکا ہے، حمزہ شہباز کو اس فیصلے کے بعد از خود استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے ایک مہینہ ہمیں یہ بھاشن دیتے ہوئے گزارا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرکے آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
فواد چوہدری نے حمزہ شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کل سے اگر آپ سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں اور یہاں بطور وزیراعلیٰ براجمان ہیں تو اس کے نتائج ہوں گے،آپ پہلے کابینہ نہیں بنا سکے لہٰذا تمام انتظامی فیصلے غلط ہیں اور ان کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا اور دوسرا آپ کی اکثریت اپوزیشن سے کم ہے،تیسری بات یہ ہے کہ گورنر پنجاب ان کو تحریک عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کہیں اور پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ یہاں پر کوئی گورنر ہی نہیں ہے، عمرچیمہ قانونی گورنر ہیں لیکن انہیں ایک جوائنٹ سیکریٹری کے احکامات کے تحت معطل کردیا گیا ہے اور نئے گورنر نے چارج نہیں سنبھالا۔
انکا کہنا تھاہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی جارہی ہے کہ حمزہ شہباز غیرقانونی طریقے سے وزیراعلیٰ ہیں اور ان کو حکم جاری کر کے وزارت اعلیٰ سے فارغ کیا جائے اور پنجاب میں نیا الیکشن کرایا جائے۔
سابق وزیر اطلاعات نے کہا نئے الیکشن کے نتیجے میں پرویز الہٰی دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوتے ہیں، ہم چاہتے تو اسپیکر از خود بھی یہ نوٹیفکیشن جاری کردیتا اوراس پر بھی قانونی بحث چلتی،ہم نے انتظامی کارروائی کرنے کے بجائے ہم خود عدالت سے رجوع کریں اور عدالت سے رجوع کریں اور حکم کے ذریعے حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ سے الگ کریں،امید ہے کہ درخواست صبح دائر ہوگی اور اس پر احکامات جلدی ہونے چاہیئں۔
اسٹیبلشمنٹ کا اپنا کھلاڑی عمران فوج پر برہم کیوں ہے؟
فواد چوہدری نے کہاپورے ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے، آج جس طرح ڈالر اوپر چلا گیا ہے اور 40 دنوں میں انہوں نے ہماری معیشت بالکل تباہ کردی ہے، ایک مستحکم پاکستان ان نالائقوں کے حوالے سے ہوا اور چند گھنٹے میں ان ڈاکووں نے پورے اس گھر کا بیڑا غرق کردیا اور کھا گئے،ہم چاہتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں پورے ملک میں انتخابات ہوں اور انتخابات کی طرف جلد بڑھنا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما مرکز میں اس وقت جو اعداد وشمار ہیں، وہاں پر بھی صدر مملکت کسی بھی وقت شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں کیونکہ شہباز شریف کے پاس اس وقت 172 ووٹ نہیں ہیں،چند لوگ بے وقوفی والی بات کرتے ہیں کہ ہم معیشت ٹھیک کریں گے، معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی کیونکہ پاکستان کا اس وقت بنیادی بحران سیاسی ہے، جب سیاسی بحران ٹھیک ہوگا تو معاشی بحران ٹھیک ہوگا۔
انہوں نے کہاعمران خان کو جس طرح غیرقانونی بین الاقوامی سازش کی بھینٹ چڑھایا گیا، اس کا نقصان پاکستان بھگت رہا ہے اور یہ بحران اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سیاسی بحران حل نہیں ہوتا اور اس کے آزادانہ انتخابات کی ضرورت ہے،ہم جتنی جلدی انتخابات کی طرف بڑھیں گے، اتنی جلدی استحکام آئے گا۔
فواد چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے کوئی فیصلے صحیح اور کوئی غلط ہوں گے، اداروں پر ہر کسی کا اعتماد ہوتا ہے، لیکن کبھی فیصلے صحیح اور کبھی غلط ہوتے ہیں، غلط فیصلوں پر تنقید ہوگی اور صحیح ہیں ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوجائے تو اسٹیبلشمنٹ سےروابط کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، کسی سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم تو سمجھتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات پر بھی بات ہوسکتی ہے لیکن پہلی شرط یہی ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، الیکشن ترجیحی طور پر ستمبر میں ہونے چاہیئں۔
