کیا شیخ رشید دوبارہ گیٹ نمبر 4 کا چوکیدار بن چکا ہے

وہ شیخ رشید احمد جسے ایک زمانے میں عمران خان اپنا چپڑاسی بھی رکھنے کو تیار نہیں تھے، اپنے عسکری چورن کے زور پر کپتان کا وزیر داخلہ بن گیا تھا۔ تاہم حکومت کے خاتمے کے بعد سے وہی شیخ رشید ماضی کی طرح اپنے کپتان کے گن گانے کی بجائے مسلسل لوز ٹاک کرتے ہوئے اس کے راز آشکار کرنے پر تلا ہوا ہے۔ شیخ رشید روزانہ ایسی گفتگو کرتا ہے جس سے عمران کا امریکی سازش کا بیانیہ مذید کمزور ہو۔ کپتان کے کچھ ساتھیوں کا خیال ہے کہ شیخ رشید نے حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر گیٹ نمبر 4 کی چوکیداری شروع کردیا اور شاید اسی ایسے بیانات داغنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ اگلے روز شیخ رشید نے فرمایا کہ عمران کو اپنی حکومت کے جانے کا علم 4 ماہ پہلے ہو چکا تھا اس لیے اس نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے کی بجائے مزید کمی کر دی جس کا خمیازہ آج شہباز شریف کی حکومت بھگت رہی ہے۔ یعنی شیخ چلی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عمران کو اپنی حکومت کے جانے کا علم جنوری میں ہوچکا تھا جبکہ امریکی خط مارچ میں لکھا گیا، یوں ان کا سازشی خط کا بیانیہ جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔

شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں بڑے بریک تھرو کا امکان

ایک تازہ انٹرویو میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت کے خاتمے سے بہت عرصے پہلے ہی ہمارے حالات اوپر نیچے ہوتے آ رہے تھے کیونکہ عمران پہلے کی طرح اب بڑوں کی ہر بات نہیں مان رہا تھا۔ خان کی بہت ساری خواہشیں حقیقت نہیں بن رہی تھیں، جیسا وہ چاہتا تھا ویسے ہو نہیں رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان شروع میں بھائی لوگوں کی ہر بات مان لیتا ہو لیکن جب انسان کو کرسی ملتی ہے تو وہ طاقتور ہو جاتا ہے اور خود فیصلے لینے کی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔ لہذا جب عمران خان پر یہ سٹیج آئی تو وہ لانے والوں کے لیے قابل قبول نہیں رہا۔

چینل 24 پر انٹرویو کے دوران اینکر نے شیخ رشید سے سوال پوچھا کہ کیا جو عمران کو کھیلا رہے تھے، وہی کسی اور کو بھی بچا رہے تھے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یہی خیال ہے کہ وہ لوگ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے تھے اور انہوں نے ہی نواز شریف کو لندن بھیجا تھا۔ اینکر نے پوچھا کہ کیا عمران خقن کو احساس ہی نہیں ہوا اور وہ اپنی معصومیت میں ان کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے؟ اس پر شیخ رشید نے کہا کہ اور عمران خان کیا کرتا، وہ بھی بس گزارا ہی کر رہا تھا ان لوگوں کیساتھ۔ انکے مطارق عمران خان کو پہلے دن سے ہی شک تھا کہ یہ ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لائیں گے جو ان کی بات من وعن مان لے اور اسی لیے آج شہباز شریف وزارت اعظمی پر براجمان ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے ایک اور انٹرویو میں شیخ رشید نے امریکی سازشی بیانیے سے ہوا نکالتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو پتہ تھا کہ اس طرح ملبہ گرنے والا ہے، اسی لئے اس نے جاتے جاتے معیشیت کے لیے بارودی سرنگیں بچھا دیں۔ انکا کہنا تھا کہ مجھے بھی آئی بی نے 4 مہینے پہلے بتا دیا تھا کہ آپ جارہے ہیں۔ شیخ نے کہا کہ عمران نے جاتے جاتے معاشی بارودی سرنگیں بچھائیں اور پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی۔ عمران خان نے کچھ تو سوچا تھا جو جاتے جاتے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کی بجائے کم کر گئے تاکہ نئی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ مجھے آئی بی نے 4 مہینے پہلے بتا دیا تھا کہ آپ جارہے ہیں۔ لیکن میں نے آئی بی کی رپورٹ کے بعد انتظار کیا کہ شاید یہ رپورٹ سنی سنائی اور ہوائی باتوں پر مبنی ہو۔ لیکن یہ ہمیں چار ماہ پہلے پتہ چل چکا تھا کہ ہم جارہے ہیں۔ اس سے قبل شیخ رشید نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ عمران کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے نہیں، اسکے اب بھی نہ صرف ان سے رابطے ہیں بلکہ تین بارمذاکرات بھی ہو چکے ہین، لیکن جو معاملات طے ہوئے عمران ان پر نہیں مانے۔

Back to top button