یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ، امریکا کو قیمت چکانا پڑے گی: باقر قالیباف

ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا امریکا کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور اب ختم ہوچکا ہے، امریکا کو قیمت چکانا پڑے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ یا تو اپنے الفاظ پر قائم رہو یا پھر قیمت چکاؤ،اب حقیقت کا سامنا کرنے کا وقت آرہا ہے۔
باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانےوالے معاہدے کی شق نمبر پانچ کو بھی ہائی لائٹ کیا جس میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمرشل جہازوں کے گزرنے کے حوالے سے انتظامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ابھی تک یہ سبق نہیں سیکھاکہ دھونس،طاقت کے زور اور وعدہ خلافی کی اب کوئی قیمت ادا کیے بغیر گنجائش نہیں رہی،صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر حملہ کر0648گے تو جواب بھی ملے گا۔
امریکا نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا سلسلہ شروع کردیا
باقر قالیباف نے امریکا کو کہا کہ بےسود ہاتھ پاؤں نہ مارو،ورنہ مزید دلدل میں دھنس جاؤگے،آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کےتحت ہی کھل سکتی ہے، امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں۔
باقر قالیباف کا کہنا تھاکہ معاہدوں پر عمل درآمد کےلیے تمام متعلقہ ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
