بجلی کے بلوں میں شامل پوشیدہ ٹیکسز کونسے ہیں؟

پاکستان میں آج کل ہر طرف بجلی کے زائد بلوں کی دُہائی ہے، عوام کی جانب سے بجلی کی بچت بھی کام نہیں آ رہی کیونکہ جتنا بجلی کا بل ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ ٹیکسز چھپے ہوتے ہیں، پی ڈی ایم کی حکومت نے بجلی 100 فیصد مہنگی کی، اس کے بعد نگران حکومت نے بھی فی یونٹ قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ایک بجلی صارف نے بتایا کہ بجلی 18 ہزار کی خرچ ہوئی، 16 ہزار کے ٹیکس بل میں شامل کر کے بجلی کا بل 34 ہزار آیا ہے اور اب قیمتوں میں حالیہ پانچ روپے 40 پیسے فی یونٹ اضافہ بھی کر دیا گیا ہے، کسی شخص کا تعلق آمدن کے اعتبار سے کسی بھی طبقے سے ہو، بجلی کے بل میں چھپے اخراجات سے ہر کوئی حیران اور پریشان ہے، نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ آئیسکو یعنی اسلام آباد میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی نے باقاعدہ خط لکھ کر پولیس سے درخواست کی کہ ان کے دفاتر پر پولیس کی نفری تعینات کی جائے۔ آئیسکو راولپنڈی کے سپریٹنڈنٹ انجینئر کی جانب سے سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کو لکھے جانے والے اس خط میں صورتحال کو ’الارمنگ‘ قرار دیا گیا، آئیسکو کی بے چینی اپنی جگہ لیکن واضح رہے کہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کے دور میں بجلی کی قیمت میں اوسطا سو گنا تک اضافہ ہونے کے بعد نگران حکومت نے بھی فی یونٹ قیمت کو مذید بڑھایا۔بی بی سی اردو نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ایک صارف، جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا، کے بل کا معائنہ کیا جن کے مطابق جولائی کے مقابلے میں اگست کے مہینے میں انھوں نے 200 یونٹ کم بجلی استعمال کی لیکن ان کا بل گذشتہ ماہ کی نسبت آٹھ ہزار روپے زیادہ تھا۔ان صارف کے بل کے مطابق جولائی کے مہینے میں انھوں نے 994 یونٹ استعمال کیے اور ان کا بجلی کا بل 42353 روپے تھا تاہم اگست کے مہینے کے بل کے مطابق انھوں نے 782 یونٹ استعمال کیے لیکن اُن کا بجلی کا بل 48583 روپے تھا۔اس بل کے مطابق بجلی کی قیمت 28543 روپے جبکہ مجموعی بل 48583 روپے کا ہے۔بجلی کے بل میں ایک حصہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کو وجب الادا رقم ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف براہ راست حکومتی محصولات ہوتے ہیں۔بجلی کی قیمت کے علاوہ بل میں ایک اہم چیز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ہے، دوسری جانب ’فنانسنگ کاسٹ سرچارج‘ کی مد میں فی یونٹ 0.43 پیسے صارفین سے وصول کیے جاتے ہیں جو دراصل گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔اسی طرح سہ ماہی یا ’کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ‘ یا ’ڈی ایم سی‘ کی مد میں بھی صارفین سے اس وقت پیسے وصول کیے جاتے ہیں جب حکومت بجلی کی قیمت میں رد و بدل کرتی ہے۔اگر ہم مثال کے طور پر لیے جانے والے بل کی بات کریں تو اس میں سب سے زیادہ ٹیکس جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کیا جا رہا ہے جو 18 فیصد کے حساب سے 5768 روپے ہے۔اس کے علاوہ اگر آپ ٹیکس فائلر نہیں ہیں، تو بجلی کے بل میں انکم ٹیکس بھی لگ کر آئے گا۔واضح رہے کہ 25 ہزار روپے سے زیادہ کے بجلی کے بل پر ہی انکم ٹیکس لگتا ہے اور یہ مجموعی بل کی لاگت کا ساڑھے سات فیصد ہوتا ہے، اسی طرح حکومت دو اور مدوں میں بھی صارف سے براہ راست پیسے وصول کرتی ہے جن میں سے ایک تو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے اوپر لگایا جانے والا جی ایس ٹی ہے اور دوسرا ٹی وی فیس ہے۔
