حزب اللہ کے عبوری سربراہ کااسرائیل کیخلاف کارروائیاں تیز کرنے کااعلان

حزب اللہ سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی شہادت کےبعد تنظیم کے عبوری سربراہ اورڈپٹی چیف نعیم قاسم نےاسرائیل کیخلاف کارروائیاں مزید تیزکرنےکااعلان کردیا۔
اپنی تقریر میں نعیم قاسم نے کہا کہ ہم نے اپنا لیڈر اور بھائی کھویا ہے جو اپنے فائٹرز سے پیار کرتے تھے۔ ہم دیرکرنےکےبجائےجلد طریقہ کار کے مطابق اپنے نئے سربراہ کا انتخاب کریں گے اور ہم لبنان کی حفاظت اورغزہ کی حمایت کے مقصد سےپیچھےنہیں ہٹیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے اندر150 کلومیٹر حملےکرتےرہےہیں۔حسن نصراللہ کی شہادت کےبعدبھی ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان میں اضافہ ہوگا، اگر اسرائیل لبنان میں زمینی کارروائی کرتا ہے تو ہم اس کےلیےتیار ہیں۔
حزب اللہ کےعبوری سربراہ نےمزید کہاکہ اسرائیل اپنےمقاصد میں کامیاب نہیں ہوگااورہم جیتیں گےجس طرح ہم2006 کی لڑائی میں اسرائیل سےجیتے تھے۔
واضح رہےکہ سیکرٹری جنرل حزب اللہ حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملےمیں شہادت کےبعد نعیم قاسم کوتنطیم کاعبوری سربراہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدرمسعودپزشکیان نےکہا ہے کہ امریکی اوریورپی حکام وعدےکررہےتھےکہ اگرایران اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا ردعمل نہیں دیتا توجنگ بندی ہو جائےگی لیکن یہ سبھی وعدےجھوٹے تھے۔
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کےمطابق لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کےسربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کےبعد گزشتہ روز کابینہ کےاجلاس سےخطاب میں ایرانی صدرنےاسرائیلی جرائم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نےکہا کہ اسرائیل کےحالیہ حملے نے ایک بارپھر ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی اصول وضوابط کا پابندنہیں ہے۔مسعود پزشکیان نےکہا کہ امریکا اور یورپ کے حکام یہ وعدےکررہے تھےکہ اگر شہید اسماعیل ہنیہ کےقتل کاایران کی جانب سےجواب نہ دیاجائےتوجنگ بندی ہوجائے گی لیکن یہ سبھی وعدےجھوٹے تھے۔ایرانی صدرنےکہا کہ اسرائیل کوجرائم کےارتکاب پرچھوٹ دیےجانےپراسکی جرات زیادہ بڑھے گی۔
کابینہ اجلاس سےگفتگو میں ایرانی صدرنےکہا کہ انہوں نےایک امریکی ٹی وی کےساتھ انٹرویو میں یہ واضح کیا تھا کہ اسرائیل کےساتھ جنگ میں حزب اللہ کوتنہا نہیں چھوڑا جائےگا۔انہوں نےکہا کہ اس وقت بھی ان کانظریہ یہی ہےکہ حزب اللہ کواسرائیل کے ساتھ جنگ میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
لبنان کے بعد اسرائیل کا یمن پر بھی حملہ
خیال رہےکہ جولائی میں ایرانی دارالحکومت تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کےبعدایران کی جانب سےبارہا اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ لیےجانےکے بیانات دیے گئے تھے۔
