جولائی 2026 دہشتگردی کے حوالے سے خونریز ترین مہینہ کیسے بنا؟

پاکستان میں جولائی 2026 دہشتگردی اور انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے حوالے سے رواں سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔ ایک نئی سکیورٹی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران دہشتگرد حملوں میں 205 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 112 سکیورٹی اہلکار، 74 شہری اور 19 امن کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں، جبکہ 218 افراد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے 401 دہشتگرد ہلاک کیے، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران کسی بھی ایک ماہ میں سب سے بڑی تعداد قرار دی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں خودکش حملوں اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی تشویشناک اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پاکستان میں دہشتگردی ایک بار پھر تشویشناک صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 دہشتگرد حملوں اور انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے باعث رواں سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران دہشتگردی کے مختلف واقعات میں 205 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 112 سکیورٹی اہلکار، 74 شہری اور 19 امن کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔ اسی عرصے میں 218 افراد زخمی ہوئے، جن میں 101 سکیورٹی اہلکار، 103 شہری اور 14 امن کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی شہادتوں کے حوالے سے یہ گزشتہ کئی برسوں کا انتہائی سنگین مہینہ رہا۔ جنوری 2023 کے بعد پہلی بار ایک ماہ میں اتنی بڑی تعداد میں اہلکار شہید ہوئے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں یہ دوسری بلند ترین ماہانہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح امن کمیٹیوں کے 19 ارکان کی شہادت بھی گزشتہ دس برسوں میں کسی ایک ماہ کی بلند ترین تعداد قرار دی گئی۔
دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 401 دہشتگرد ہلاک کیے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں کسی بھی ایک ماہ کے دوران دہشتگردوں کی ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے، جو انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جولائی کے دوران کم از کم آٹھ خودکش حملے ہوئے، جن میں سے پانچ حملے بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔ گزشتہ ایک دہائی میں کسی ایک ماہ کے دوران خودکش حملوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی، جس سے دہشتگردوں کی بدلتی حکمت عملی اور بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
سکیورٹی صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو اغوا برائے تاوان اور دیگر اغوا کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون میں ایسے 33 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو جولائی میں بڑھ کر 66 ہو گئے، یعنی صرف ایک ماہ میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم دہشتگرد تنظیمیں بھی اپنی کارروائیوں میں شدت اور نئی حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔ ان کے نزدیک دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں ہی نہیں بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، مقامی سطح پر سکیورٹی تعاون اور انتہاپسندی کے خلاف جامع قومی حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔
