محسن نقوی کے بیان کے بعد حکمران اتحاد میں اختلاف، نئے صوبوں پر سیاست گرم

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ملکی نظام کی تباہی اور بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت بارے بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بہتر گورننس اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، تو دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے طنزیہ انداز میں محسن نقوی کو اپنی وزارت چھوڑ کر اصلاحات کا آغاز کرنے کا مشورہ دےڈالا۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مختلف مؤقف نے اس معاملے کو صرف انتظامی نہیں بلکہ ایک اہم آئینی اور سیاسی موضوع بنا دیا ہے، جہاں بہتر گورننس، اختیارات کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام پر قومی اتفاقِ رائے سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔

مبصرین کے بقول وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ نظام کو "ڈھ چکا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی قیادت مل بیٹھ کر نظام میں بنیادی اصلاحات کرے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام سمیت اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرے۔

محسن نقوی کے بیان کے فوراً بعد اس موضوع پر مختلف ریاستی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بہتر گورننس کو پاکستان کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی، ٹیکنالوجی اور ریاستی تقاضوں میں تبدیلی کے ساتھ انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی اصلاحات سے متعلق تمام فیصلے آئین، جمہوری عمل اور منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی ہونے چاہییں۔

اس کے برعکس وزیر دفاع خواجہ آصف نے محسن نقوی کے بیان پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز اپنی وزارت سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے بنیادی معاملات پر گفتگو پارلیمنٹ اور کابینہ جیسے آئینی فورمز پر ہونی چاہیے، نہ کہ عوامی تقریبات میں۔ بعد ازاں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ گورننس میں اصلاحات کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن نظام کے خاتمے یا کسی غیر آئینی راستے کے حامی نہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی نئے صوبوں کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ موجودہ نظام کے خاتمے کا نہیں بلکہ اختیارات کی غیر متوازن تقسیم کا ہے۔ ان کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات وفاق سے صوبوں کو تو منتقل ہوئے، مگر صوبوں نے انہیں ضلعی سطح تک منتقل نہیں کیا، جس کے باعث مقامی حکومتیں کمزور اور عوامی خدمات متاثر ہوئیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ یا تو بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے یا پھر بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نئے صوبوں کی اصولی مخالفت نہیں کرتی، لیکن اس کا طریقۂ کار آئین میں موجود ہے اور اسی کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق جس صوبے کی تقسیم کا معاملہ ہوگا، اس کی صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ دونوں سے آئینی تقاضوں کے مطابق منظوری ضروری ہوگی۔

آئینی ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا راستہ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت متعین ہے، جس کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت کے بغیر کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر اس معاملے پر عملی پیش رفت آسان دکھائی نہیں دیتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق محسن نقوی کے بیان نے ایک ایسے مسئلے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے جو کئی برسوں سے زیر بحث ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیہ اور کمزور انتظامی ڈھانچے کے باعث نئے صوبے بہتر حکمرانی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جبکہ دوسری رائے کے مطابق اگر بااختیار بلدیاتی نظام اور مؤثر ضلعی حکومتیں قائم کر دی جائیں تو نئے صوبوں کی ضرورت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔

اس تمام بحث سے ایک حقیقت ضرور سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں بہتر گورننس، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر تقریباً تمام حلقے متفق ہیں، البتہ اختلاف اس بات پر ہے کہ اس مقصد کے لیے نئے صوبے بنائے جائیں یا موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنایا جائے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحث ملکی سیاست اور آئینی مباحث کا اہم موضوع بنے رہنے کا امکان ہے۔

Back to top button