پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا فارمولا کیا ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر قومی سیاست اور پالیسی سازی کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور بہتر حکمرانی کی ضرورت کے پیشِ نظر مختلف ماہرین اور تجزیہ کار نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر زور دے رہے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کے نزدیک صرف نئے صوبے بنا دینا مسائل کا مکمل حل نہیں بلکہ اس کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کی بنیاد آبادی، رقبہ، وسائل، معاشی خودمختاری یا انتظامی ضرورت میں سے کس اصول پر رکھی جائے؟

مبصرین کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ گورننس، انتظامی اصلاحات اور وفاقی توازن سے جڑا ایک اہم قومی معاملہ بن چکی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور ماہرین اس موضوع پر الگ الگ آراء رکھتے ہیں، لیکن ایک نکتے پر تقریباً سب متفق ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق پاکستان کا موجودہ وفاقی ڈھانچہ غیر متوازن ہے، کیونکہ پنجاب ملک کی نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر صوبے نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس ہیں۔ ان کے مطابق اتنی بڑی آبادی کا ایک ہی انتظامی مرکز سے مؤثر نظم و نسق ممکن نہیں، جس کے باعث وسائل کی تقسیم، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب جیسے خطوں میں بنیادی سہولیات کی کمی بھی اسی غیر متوازن نظام کا نتیجہ ہے، تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ نئے صوبے اکیلے مسئلے کا حل نہیں، بلکہ بااختیار بلدیاتی نظام، صوبائی مالیاتی کمیشن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے۔

جمہوری و آئینی امور کے ماہر احمد بلال محبوب اس بحث کو آئینی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ایک حساس آئینی معاملہ ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف آئینی تقاضے پورے کرنا کافی نہیں، بلکہ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔ ان کے نزدیک اگر مقصد بہتر گورننس ہے تو پہلے مضبوط بلدیاتی نظام کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ آبادی، وسائل، معاشی صلاحیت، انتظامی ضرورت اور عوامی خواہشات جیسے تمام عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کار مجید نظامی کے مطابق نئے صوبوں کی موجودہ بحث کو صرف انتظامی ضرورت کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ماضی میں بھی ایسے مطالبات مختلف سیاسی محرکات کے تحت سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کا معیار صرف آبادی یا رقبہ نہیں بلکہ قومی اور عوامی اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکمرانی، اداروں کی کارکردگی اور شفافیت بہتر نہ ہو تو نئے صوبے بھی موجودہ مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق اصل توجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا مضبوط اور بااختیار نظام موجود نہیں، جبکہ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں عوامی مسائل کا حل مقامی سطح پر منتخب اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بنائے جائیں یا نہیں، بنیادی مقصد عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اور بہتر حکمرانی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

مجموعی طور پر ماہرین کی آراء سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ صرف جغرافیائی تقسیم کا نہیں بلکہ ایک جامع انتظامی، آئینی اور سیاسی اصلاحاتی پیکیج کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر نئے صوبے بنائے بھی جائیں تو ان کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف مالیاتی ڈھانچہ، مؤثر ادارے اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانا ہوگا، ورنہ صرف نئی انتظامی حدود کھینچنے سے گورننس کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

Back to top button