نئے صوبوں کا مطالبہ، وزیر داخلہ کے بیان کے بعد کون سی بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں پر سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ حکومت کو کوئی فوری خطرہ لاحق ہے اور نہ ہی وزیر داخلہ کی تبدیلی کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اصل معاملہ حکومتی استحکام نہیں بلکہ دفاعی ضروریات، این ایف سی ایوارڈ میں ممکنہ تبدیلی اور وفاق و صوبوں کے درمیان وسائل کی نئی تقسیم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور دفاعی تقاضوں نے حکومت کو نئے مالی ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس پر سیاسی اتفاقِ رائے ابھی تک سامنے نہیں آ سکا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد ملکی سیاست میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں، تاہم سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے ان امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں نہ حکومت کے خاتمے کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی وزیر داخلہ کی تبدیلی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق محسن نقوی کے بیان کو حکومت کے مستقبل سے جوڑنے کے بجائے اس کے پس منظر میں موجود بڑے پالیسی معاملات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر عوامی سطح پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے، جبکہ حکومت کی توجہ اس وقت ایسے اہم معاملات پر مرکوز ہے جن کا تعلق دفاعی ضروریات، قومی وسائل اور مالیاتی پالیسی سے ہے۔ ان کے بقول حالیہ سیاسی رابطوں اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں این ایف سی ایوارڈ اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم بھی زیر بحث رہی ہے۔

تجزیے کے مطابق موجودہ علاقائی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث دفاعی اخراجات میں اضافے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ وفاق کو دفاعی شعبے کے لیے مزید وسائل درکار ہیں، جبکہ موجودہ مالی ڈھانچے میں صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل کے باعث وفاقی حکومت پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پنجاب کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں ممکنہ تبدیلی پر لچک دکھائی جا سکتی ہے، تاہم سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی اختلافات وفاق اور صوبوں کے درمیان اتفاقِ رائے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفاع صرف کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے مستقبل میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے پر سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر دفاعی تقاضے بڑھتے ہیں تو مالی وسائل کے انتظام کے لیے بھی نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک این ایف سی ایوارڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، جس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور تمام صوبوں کی مشاورت ضروری ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف سیاسی استحکام نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھتے ہوئے قومی مالیاتی حکمت عملی پر اتفاق پیدا کرنا ہوگا۔

Back to top button