کیا نئے صوبوں کے قیام میں سیاسی مفاہمت ممکن ہے؟

پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کے تناظر میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کو بہتر سہولیات، مؤثر گورننس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنا سکتے ہیں تو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، تاہم اس عمل کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی تقاضوں کی تکمیل اور قومی مفاہمت ناگزیر ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مختلف مؤقف، خصوصاً مسلم لیگ (ن) کی محتاط خاموشی اور پیپلز پارٹی کی مخالفت، اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جبکہ ریفرنڈم کے آپشن پر بھی مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ حکمرانی کے مسائل، بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی صلاحیت کو بہتر بنانے کے تناظر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ ملک کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نئے انتظامی یونٹس وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
سیاسی اور آئینی ماہرین کے مطابق اگر نئے صوبوں کے قیام کا مقصد بہتر گورننس، عوامی نمائندگی میں اضافہ اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس تجویز پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ معاملہ محض سیاسی نعرے بازی کے بجائے قومی اتفاقِ رائے، آئینی تقاضوں اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔
آئین کے مطابق کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئینی ترمیم اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایسی اکثریت کا حصول آسان دکھائی نہیں دیتا، جس کی وجہ سے بعض حلقوں میں ریفرنڈم کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم ایک ممکنہ راستہ تصور کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود آئینی تقاضوں کی تکمیل ناگزیر رہے گی۔
سیاسی جماعتوں کے مؤقف بھی اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی ہے، تاہم سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہے، کیونکہ سندھ اس کی سیاسی طاقت کا بنیادی مرکز ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کھل کر مخالفت نہیں کرتی، لیکن اس حوالے سے اس کا مؤقف محتاط اور مشروط دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث سیاسی منظرنامے میں ابہام برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ریاستی اداروں کی جانب سے بہتر حکمرانی کو ترجیح دی جا رہی ہے، کیونکہ ملک کو اس وقت معیشت، امن و امان، آبادی میں اضافے، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور مقامی سطح پر مؤثر فیصلہ سازی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے نزدیک چھوٹے انتظامی یونٹس ان مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں جامع منصوبہ بندی اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ تشکیل دیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام صرف سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک طویل آئینی، انتظامی اور عوامی عمل ہے۔ اگر تمام سیاسی قوتیں اس معاملے پر سنجیدہ مکالمہ کریں اور قومی مفاد کو ترجیح دیں تو بہتر حکمرانی کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، تاہم سیاسی اختلافات برقرار رہے تو یہ معاملہ مستقبل میں بھی محض بحث تک محدود رہنے کا امکان رکھتا ہے۔
