امریکی صدر کا ایران پر بڑا حملہ منسوخ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہےکہ انہوں نے ایران پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،تاہم یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جلد کسی معاہدے تک پہنچنے سے مشروط ہے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اگر تیزی سے معاہدہ ممکن ہوا تو حملہ نہیں کیا جائے گا جب کہ اسرائیل بھی اس مؤقف میں امریکا کے ساتھ ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک نے امریکا سے حملہ روکنے کی درخواست کی ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا خاتمہ شامل ہے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے اردن پر حملے کے جواب میں شدید حملہ کریں گے۔ایران کے حامی جنگجوؤں کےخلاف بھی کارروائیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کاکہنا تھاکہ ایران کو شدید نقصان پہنچایاگیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔تاہم ایران کے پاس اب بھی کچھ ڈرونز اور میزائل صلاحیت موجود ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنےکی سخت تنبیہ کرتےہوئے واضح کیا تھا کہ اگر امریکی افواج نے نئے حملے کیے تو تہران بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
