مریم نواز نے چچا شہباز کے لیے دوبارہ مشکلات کیسے کھڑی کر دیں؟

وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت ایک مرتبہ پھر مریم نواز کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے قابل اعتراض اور دھمکی آمیز تقریر کے ردعمل میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی سے بائیکاٹ کرتے ہوئے جوابی دھمکی دے دی ہے کہ اب اس کے لیے نواز لیگ کی اتحادی حکومت کا حصہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے اپنے حالیہ خطابات کے دوران جہاں پیپلزپارٹی قیادت پر تابڑ توڑ حملے کئے جا رہے ہیں وہیں وہ سندھ حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں۔ مریم نواز کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پانی، پیسہ اور نہروں کے معاملے پر سیاست بند کی جائے، سندھ میں کام کریں، ہمیں خوشی ہوگی مگر کچھ کریں تو سہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مجھ پر تنقید کرتا ہے تو کرے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر کسی نے پنجاب کو ہدف تنقید بنایا تو مریم نواز اسے چھوڑے گی نہیں اسے گھر چھوڑ کر آئے گی۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ میں پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی،مریم نواز پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی توڑ دے گی۔
مریم نواز نے حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مزید کہا کہ کبھی پنجاب نے کہا کہ فلاں صوبہ یہ کرے اور فلاں صوبہ یہ نہ کرے۔ پنجاب نے آپ کے معاملات میں مداخلت نہیں کی تو آپ ہمارے معاملات میں مداخلت کیوں کررہے ہیں؟پہلے بجلی کے بلوں پر اعتراض کیا۔ نہروں کا مسئلہ بنایا۔ اور اب سیلاب زدگان کی مدد کو مسئلہ بنا رہے ہیں۔ پہلے میں بہت چپ رہی لیکن مجھے تر نوالہ نہ سمجھیں۔اب پنجاب پر انگلی اٹھانے والوں کی انگلی توڑ دوں گی ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کا اپنا پانی ہے جو پنجاب کے کسانوں کی امانت ہے۔ اگر میں وہاں پر نہریں نکالنا چاہوں تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔ میرا پانی، میرا صوبہ اور میرے وسائل ہیں، پنجاب کے لیے نہریں نکالنے پر انہیں تکلیف کیوں ہوتی ہے۔ میرا پانی، میری مرضی، پنجاب کے عوام کے حق میں فیصلے کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
مریم نواز کے جارحانہ خطاب کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پیپلزپارٹی اراکین اسمبلی نے وفاقی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا۔واک آؤٹ سے قبل پی پی کے مرکزی رہنما نوید قمرنے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے دئیے گئے سیاسی بیانات غیر مناسب ہیں۔ یہ وقت تقریریں کرنے کی بجائے سیلاب متاثرین کی مدد کیلیے عملی اقدامات کرنے کا ہے۔ ورنہ تقریریں تو پیپلز پارٹی بھی اچھی کر سکتی ہے۔نوید قمر کا کہنا تھا کہ آبی امور سے متعلق گفتگو سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی قومی مفاد میں بات کر رہی ہے، لیکن اس کا جواب یہ نہیں ہوتا جو کل ملا ہے۔ ان حالات میں حکومتی بینچز پر بیٹھنا مشکل ہو رہا ہے۔
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی فراغت کا کتنا امکان ہے؟
انہوں نے ن لیگ کی وفاقی حکومت کو متنبہ کیا کہ ہمیں کوئی فیس نہیں ملی جو آپ کے ساتھ بیٹھیں۔ اگر حالات اسی طرح رہے، تو وہ وقت دور نہیں کہ جب وہ وقت آ جائے کہ ہم کہیں آپ جیسے چاہیں حکومت چلائیں۔ ہم آپ کے ساتھ اس جرم میں شریک نہیں ہیں۔ ہمیں وزارتیں اور کرسیاں کچھ نہیں چاہئیں، لیکن آپ عزت تو دے سکتے ہیں۔ ہم ہاؤس کا حصہ تب تک نہیں بن سکتے، جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے۔ نوید قمر کی تقریر کے دوران پی پی اراکین نے ڈیسک بجا کر داد دی، جب کہ تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے بھی وفاقی اور پنجاب حکومت کے اقدامات کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ بعد ازاں پی پی کے تمام اراکین قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کر کے چلے گئے، جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعہ 3 اکتوبر صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت بارے پیپلز پارٹی قیادت کے تحفظات کوئی نئی بات نہیں دونوں سیاسی جماعتوں کے مابین پنجاب میں پاؤر شئیرنگ فارمولے بارے بھی اختلافات موجود ہیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی جانب سے ماضی میں بھی صوبائی اتھارٹیز میں نامزدگیوں، ترقیاتی فنڈز کے اجراء اور بیوروکریسی میں من پسند تبادلوں بارے تحفظات اور اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم اس دفعہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مریم نواز کی جانب سے استعمال کی گئی دھمکی آمیز زبان کا جواب جارحانہ انداز میں دیا ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں دونوں جماعتوں میں کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
