نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کو داؤ پر کیسے لگایا؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے نہ صرف خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے بلکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے سخت ردعمل نے یہ تاثر پیدا کیا کہ نیتن یاہو نے واشنگٹن کی محتاط پالیسی کو پسِ پشت ڈال کر اپنی سکیورٹی ترجیحات کو ترجیح دی۔ اگرچہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے دفاع کا حق رکھتا ہے، لیکن اس کارروائی نے امریکہ کی اس کوشش کو پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے تحت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ کسی ممکنہ مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

تجزیہ کاروں کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ سے گریز کے خواہاں ہیں۔ واشنگٹن مسلسل یہ پیغام دیتا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم اسرائیل کے حالیہ اقدامات نے امریکی سفارتی کوششوں کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔اسرائیل کے اندر بھی اس معاملے کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق رواں سال متوقع انتخابات نے بھی نیتن یاہو کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے۔ ایران کے حملے کے بعد اگر اسرائیل خاموش رہتا تو اپوزیشن حکومت کو کمزور اور غیر مؤثر قرار دے سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے جوابی کارروائی تقریباً ناگزیر دکھائی دیتی تھی۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے شہری آبادی پر بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد خاموش رہنا مشکل ہوتا ہے۔ اسرائیلی فوج بھی مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ اس کی تمام کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد مستقبل کے خطرات کو روکنا ہے۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو نے ایک بڑا سیاسی اور سفارتی جوا کھیلا ہے۔ ماضی میں بھی اسرائیلی قیادت امریکی صدور سے اختلاف کرتی رہی ہے، لیکن اس بار اختلاف زیادہ نمایاں انداز میں سامنے آیا۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا اسرائیل اپنی علاقائی پالیسیوں میں مکمل آزادی برقرار رکھ سکتا ہے یا اسے امریکی مفادات اور ترجیحات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ دونوں اس وقت سیاسی طور پر ایک دوسرے کے محتاج بھی ہیں۔ ایران کے خلاف سخت مؤقف دونوں رہنماؤں کے سیاسی بیانیے کا حصہ رہا ہے، اس لیے عوامی سطح پر تعلقات میں کسی بڑی دراڑ کا تاثر دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے اتحادی گروہوں کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو لبنان، شام اور خطے کے دیگر محاذ بھی دوبارہ متحرک ہو سکتے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق فی الحال دونوں فریقوں کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے اشارے ضرور دیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔ اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ایران بھی واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کے خلاف مزید حملے ہوئے تو جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔

ایسے میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا نیتن یاہو نے ایران کے خلاف کارروائی کرکے اپنی قومی سلامتی کو ترجیح دی یا پھر انہوں نے امریکی خواہشات کو نظر انداز کرکے ایک خطرناک سیاسی جوا کھیل لیا؟ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی سکیورٹی کو مضبوط بناتا ہے یا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔فی الحال مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی پرانے مخمصے سے دوچار ہے: جنگ اور سفارتکاری کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے، اور امریکہ کے ساتھ اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل اپنی آزادانہ عسکری پالیسی کو کس حد تک آگے بڑھا سکتا ہے۔

Back to top button