لبنان کے صدر کی اسرائیل کو مذاکرات کی پیشکش

لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ کے خاتمے کےلیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے، فوجی حل کبھی بھی مستقل سکیورٹی اور تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی قیادت اور عوام کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ اگر دونوں فریق سنجیدگی سے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔لبنان گفتگو کےلیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کےلیے سفارتی راستے کو ترجیح دیتاہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے کہاکہ فوجی کارروائیاں ماضی میں بھی پائیدار سلامتی فراہم نہیں کرسکیں اور آئندہ بھی یہ راستہ خطے کے عوام کو امن نہیں دےسکتا۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جوزف عون نے کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا سیاسی معاہدے سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ان کے مطابق زیرغور فریم ورک مکمل امن معاہدے کے بجائے عدم جارحیت کی بنیاد پر استوار ہوگاجو مستقبل میں وسیع تر امن عمل کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔لبنان اپنی سفارتی حکمت عملی میں 2002 کی عرب امن تجویز کو بنیادی حوالہ سمجھتا ہےجس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانےکی بات کی گئی تھی۔
اسرائیل کالبنان میں گاڑی پرحملہ،5افراد جاں بحق
لبنانی صدر نے کہاکہ واشنگٹن کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا عمل جاری ہےجس کا مقصد مکمل جنگ بندی اور سرحدی کشیدگی کے مستقل خاتمے کےلیے قابلِ قبول حل تلاش کرنا ہے۔
