پاکستان خلیجی ممالک کے دفاع میں کھل کر سامنے کیسے آیا؟

امریکہ کے ایران پر فضائی حملوں، جوابی کارروائیوں اور حوثیوں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان خلیجی ممالک کے دفاع میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں کو درپیش بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور 12 دیگر ممالک نے ایک تاریخی کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد قائم کر دیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد بین الاقوامی تجارتی اور توانائی کے راستوں کو محفوظ بنانا، جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ کرنا اور بحیرۂ احمر، باب المندب، خلیج عدن اور آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری تعاون کو فروغ دینا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والا یہ اتحاد خطے میں میری ٹائم سکیورٹی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، مصر، قطر، بحرین، کویت، اردن، یمن، جبوتی، بنگلہ دیش، سوڈان، نائیجر اور صومالیہ نے مشترکہ طور پر ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد عالمی بحری سلامتی کو مضبوط بنانا اور اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔
ریاض میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس اتحاد کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور عالمی بحری ضوابط کے مطابق جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا، عالمی تجارتی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ کرنا اور بحیرۂ احمر، باب المندب، خلیج عدن اور دیگر حساس بحری علاقوں میں دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بحری سلامتی اب کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری بن چکی ہے۔ اسی لیے رکن ممالک اطلاعات اور انٹیلی جنس کے تبادلے، مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی، بحری مشقوں، تربیت، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی کارروائیوں کے ذریعے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اتحاد کے بانی ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مکمل دفاعی نوعیت کا اتحاد ہے، جس کا ہدف کسی مخصوص ملک، اتحاد یا بین الاقوامی تنظیم کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے عالمی بحری تجارت اور جہاز رانی کے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہوگا، جبکہ اتحاد کا مستقل صدر دفتر بھی ریاض میں قائم کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، بحری آپریشنز سینٹر اور جنرل سیکریٹریٹ بھی سعودی عرب میں قائم کیے جائیں گے، جہاں سے اتحاد کی انتظامی اور آپریشنل سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی۔
اجلاس میں یورپی یونین سمیت 43 ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام اور نمائندوں نے بھی شرکت کی، جہاں عالمی بحری سلامتی کو لاحق خطرات، کمرشل جہازوں، آئل ٹینکروں اور اہم بحری تنصیبات پر حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی راستے ہیں، لہٰذا ان علاقوں میں مؤثر اور مربوط بحری تعاون نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
گورننس بحران کے بعد نئے صوبوں کی بحث کیوں تیز ہو گئی؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت نہ صرف خطے میں اس کے بحری اور دفاعی کردار کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ عالمی سطح پر میری ٹائم سکیورٹی اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ میں بھی اس کی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔
