گورننس بحران کے بعد نئے صوبوں کی بحث کیوں تیز ہو گئی؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے "نظام ڈھے چکا ہے” والے بیان کے بعد ملکی سیاست میں نئے انتظامی یونٹس اور گورننس کے مستقبل پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ محسن نقوی کے حالیہ ریمارکس محض ذاتی رائے نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کو درپیش بڑھتے ہوئے انتظامی، سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کے باعث اب نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کو ملک میں جاری انتظامی اور سیاسی مباحث کا اہم موڑ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث دراصل ریاستی سطح پر گورننس کے بحران سے نمٹنے کی ایک سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ محسن نقوی نے ایسے وقت میں یہ بات کی ہے جب ریاست کو مختلف نوعیت کے سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بدانتظامی، عوامی مسائل میں اضافے اور سیاسی قیادت کی کمزور کارکردگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق ان کا تاثر ہے کہ طاقتور حلقوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں اور ملک میں زیادہ مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سوچ کے پیچھے یہ دلیل کارفرما ہے کہ موجودہ صوبائی نظام بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے اس نوعیت کی گفتگو سیاسی طور پر آسان نہیں تھی کیونکہ اتحادی جماعتیں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی، اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتی ہیں۔ ان کے بقول محسن نقوی نے یہ موضوع اس لیے اٹھایا کیونکہ وہ ایسے معاملات پر نسبتاً کھل کر اظہارِ خیال کر سکتے ہیں۔

نجم سیٹھی نے اپنی گفتگو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ محسن نقوی کی حالیہ ملاقاتیں اہم سیاسی شخصیات سے ہوئیں اور انہوں نے نئے انتظامی ڈھانچے اور گورننس سے متعلق اپنی رائے پیش کرنے سے قبل حکومتی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ آئینی نوعیت کا ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی تجویز پر عملدرآمد کا انحصار سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا۔

 

کیا بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام پر راضی ہوں گی؟

محسن نقوی کے بیان اور اس پر آنے والے مختلف سیاسی و تجزیاتی ردعمل نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان میں بہتر گورننس کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں یا موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

Back to top button