18ویں ترمیم، 17وزارتیں صوبوں کو منتقل، ملازمین تاحال وفاق میں موجود کیوں؟

اٹھارہویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین آئینی اصلاحات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد اختیارات کو وفاق سے صوبوں تک منتقل کر کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر اور عوام کے قریب بنانا تھا۔ تاہم پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک سرکاری رپورٹ نے اس عمل کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ 17 وزارتوں کے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے، لیکن ان سے وابستہ وفاقی وزارتیں، ادارے اور ملازمین بڑی حد تک اب بھی وفاقی نظام کا حصہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں ملازمین اور انتظامی ڈھانچہ وفاق کے پاس برقرار رہنے سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں خاطر خواہ کمی نہ آ سکی بلکہ اختیارات کی منتقلی کے حقیقی مقاصد پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت اگرچہ 17 وفاقی وزارتوں کے شعبہ جات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے تھے، تاہم ان وزارتوں کا انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک وفاق میں برقرار رہا، جس کے باعث وفاقی حکومت کا حجم کم نہ ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق آئینی ترمیم کے تحت جن وزارتوں اور ڈویژنوں کے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے، ان میں تعلیم، صحت، زراعت، خوراک، ماحولیات، ثقافت، سیاحت، کھیل، ترقی نسواں، اقلیتی امور، محنت و افرادی قوت، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، لائیو اسٹاک، زکوٰۃ و عشر، یوتھ افیئرز اور دیگر شعبے شامل تھے۔ آئینی تصور یہ تھا کہ ان اختیارات کی منتقلی کے بعد متعلقہ وفاقی وزارتیں یا تو ختم ہو جائیں گی یا ان کا کردار محدود ہو جائے گا، تاہم رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر وزارتیں مختلف ناموں یا نئی انتظامی ترتیب کے ساتھ آج بھی وفاقی سطح پر موجود ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اختیارات، اثاثوں اور اداروں کی صوبوں کو منتقلی کی ذمہ داری کابینہ ڈویژن کی تھی، جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کردار صرف ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ اور مستقل تقرریوں تک محدود تھا، اور اس نے اپنی ذمہ داریاں مکمل کر دی ہیں۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ان 17 وزارتوں میں مجموعی طور پر 50 ہزار 411 ملازمین خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم ان میں سے صرف 6 ہزار 696 ملازمین کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کیا گیا، جبکہ 43 ہزار 715 ملازمین بدستور وفاقی حکومت کے پاس رہے۔ اس کے علاوہ تحلیل کیے گئے اداروں کے 577 ملازمین اور مرکزی سیکرٹریٹ کے 2 ہزار 869 اہلکار بھی وفاقی انتظامی ڈھانچے کا حصہ برقرار رہے۔

دوسری جانب کابینہ ڈویژن کا مؤقف ہے کہ اختیارات اور اثاثوں کی منتقلی کا عمل اپنی ذمہ داری کے مطابق مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ اگر کسی وزارت یا صوبائی حکومت کو منتقلی سے متعلق مزید معاملات درپیش ہوں تو انہیں مشترکہ مفادات کونسل کے فورم سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اٹھارہویں ترمیم کا بنیادی مقصد وفاقی اختیارات کو محدود کرتے ہوئے صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینا تھا، تاہم انتظامی ڈھانچے اور انسانی وسائل کی بڑی تعداد وفاق میں برقرار رہنے سے اس ترمیم کے عملی نتائج پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اختیارات کی قانونی منتقلی کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ضروری تھیں تاکہ وفاقی حکومت کا حجم کم ہو اور صوبے مکمل طور پر ان شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔

 

کسی بھی مہم جوئی پر امریکا کو قیمت چکانا پڑے گی:جنرل علی عبداللہی

حالیہ دنوں میں ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات پر جاری بحث کے تناظر میں یہ رپورٹ مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ اس سے یہ سوال دوبارہ سامنے آیا ہے کہ آیا پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک حقیقی منتقلی مکمل ہو سکی ہے یا انتظامی اصلاحات کا عمل اب بھی ادھورا ہے۔

Back to top button