ویلنشیا ٹاؤن سانحہ:امریکی خاتون اور تین بچوں کی ہلاکت کا اصل ذمہ دار کون؟

لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں امریکی نژاد خاتون اور ان کے تین کمسن بچوں کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر پہلے اپنے بچوں کو زہریلی آئس کریم کھلائی اور بعد ازاں خود بھی زہر کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پولیس کے مطابق جدید فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تفتیشی شواہد کی بنیاد پر خاتون کو مرکزی ملزمہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ زہریلا کیمیکل فراہم کرنے کے الزام میں دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
خیال رہے کہ لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں رواں ماہ امریکی نژاد خاتون علینہ اور ان کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کر دی ہیں۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کے مطابق دستیاب شواہد، فرانزک رپورٹ اور تفتیش کے نتیجے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر اپنے تینوں بچوں کو پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر آئس کریم کھلائی، بعد ازاں خود بھی وہی زہر کھا کر خودکشی کر لی۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران زہریلا کیمیکل فراہم کرنے کے الزام میں ایک آن لائن کیمیکل فروش اور پارسل کی ترسیل میں مبینہ کردار ادا کرنے والے ایک رائیڈر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیمیکل فروش نے مبینہ طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے کے عوض پوٹاشیم سائنائیڈ فراہم کیا، جس کی ادائیگی منی گرام کے ذریعے کی گئی۔
تحقیقات کے مطابق امریکی نژاد خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ امریکہ سے لاہور آئی تھیں اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر زہریلا کیمیکل اپنی ایک دوست کے پتے پر منگوایا، جہاں سے 16 جولائی کو پارسل وصول کیا گیا۔ اگلے روز مبینہ طور پر اسی کیمیکل کو آئس کریم میں ملا کر بچوں کو کھلایا گیا، جبکہ خاتون نے خود بھی وہی آئس کریم کھائی۔ پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہر آلود آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تفتیش کے دوران مقتولہ کے شوہر سے تفصیلی پوچھ گچھ، پولی گراف ٹیسٹ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا گیا، تاہم انہیں اس واقعے میں ملوث نہیں پایا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی امریکہ اور کینیڈا میں مقیم بہنوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں بتایا گیا کہ خاتون طویل عرصے سے ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور پاکستان آنے سے قبل اپنی ادویات کا استعمال بھی کم کر چکی تھیں۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ انٹرنیٹ پر خودکشی اور موت کے مختلف طریقوں سے متعلق معلومات تلاش کرتی رہی تھیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جدید فرانزک، ڈیجیٹل شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد سے کیس کی کڑیاں جوڑی گئیں، جس کے بعد دو مزید ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
پاکستان خلیجی ممالک کے دفاع میں کھل کر سامنے کیسے آیا؟
یہ واقعہ ملک بھر میں شدید توجہ کا مرکز بنا، جبکہ امریکی سفارت خانے نے بھی اس معاملے پر پاکستانی حکام سے رابطہ رکھا۔ اب پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کر دیا ہے، تاہم اس مقدمے میں حتمی قانونی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
