پاکستان نے تیسری عالمی جنگ کا راستہ کیسے روکا؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک ایسے وقت میں پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا جب کسی بھی لمحے یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان ایک ایسے سفارتی کردار کے ساتھ سامنے آیا، جس نے نہ صرف رابطوں کے دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کی بلکہ جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلام آباد کی سفارتکاری نے خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں کردار ادا کیا، یا یہ صرف عالمی قوتوں کی وسیع تر حکمتِ عملی کا ایک حصہ تھا؟

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران کم از کم دو ایسے مواقع سامنے آئے جب پاکستان کی سفارتی کوششوں کا براہِ راست ذکر کیا گیا۔ پہلا موقع اپریل 2026 میں آیا، جب وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب واشنگٹن کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے تھے اور خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ چکے تھے۔دوسری مرتبہ اپریل کے اواخر میں جنگ بندی کے خاتمے کے امکانات پیدا ہوئے تو صدر ٹرمپ نے خود اس بات کا اعلان کیا کہ پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی مؤخر کی جا رہی ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جا سکے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔بعد ازاں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی ادوار نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست بات چیت محدود ہونے کے باوجود بیک چینل رابطے جاری رہے، جن میں پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری کو اہم قرار دیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں مئی اور جون کے دوران پاکستانی قیادت نے خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے۔ سعودی عرب، قطر، مصر، کویت، چین اور ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر ہونے والی مشاورت اس حکمتِ عملی کا حصہ تھی، جس کا مقصد تنازع کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلنے سے روکنا تھا۔پاکستانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے کہ موجودہ بحران کا حل فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ سفارتکاری میں مضمر ہے۔ اسی سوچ کے تحت اسلام آباد نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جو فریقین کے درمیان اعتماد سازی، پیغامات کی ترسیل اور مذاکراتی ماحول کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا، جبکہ یورپی قیادت کی جانب سے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کے لیے اسلام آباد کی کاوشوں کو تعمیری قرار دیا گیا۔

خارجہ امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے ایسے وقت میں رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جب براہِ راست سفارتی چینلز تقریباً غیر فعال ہو چکے تھے۔ ان کے مطابق، بحرانوں کے دوران ایسے ممالک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو متحارب فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکیں۔

تاہم بعض مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ کرنا مبالغہ ہوگا کہ جنگ صرف پاکستان کی وجہ سے ٹل گئی۔ ان کے مطابق، عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات، معاشی خدشات اور علاقائی توازن بھی ایسے عوامل تھے جنہوں نے مکمل جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان نے سفارتکاری کے لیے درکار سیاسی اور عملی سہولت کاری فراہم کی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے لیے اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ اگر اسلام آباد مستقبل میں بھی ایران اور امریکہ کو بامعنی مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ واضح ہے کہ جنگیں میدانوں میں شروع ضرور ہوتی ہیں، لیکن ان کا پائیدار خاتمہ اکثر سفارتکاری کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے، اور پاکستان اسی میز کو آباد رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Back to top button