PTI نے کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی سے ہاتھ کیوں ملالیا؟

سیاسی جدوجہد میں عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر حمایت حاصل کرنا ایک معمول کی حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے، لیکن جب کوئی سیاسی جماعت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی متنازع یا کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اس کے سیاسی اور قانونی مضمرات پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جاری حالیہ احتجاج اور اس میں تحریکِ انصاف کی مبینہ شمولیت کے حوالے سے بھی ایسی ہی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

ناقدین کے مطابق ناکام تمناؤں اور سیاسی خواہشات کی ماری تحریکِ انصاف اب مبینہ طور پر کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کندھوں پر بندوق چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی سطح پر اپنے سیاسی اہداف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنے والی جماعت نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کو ایک نئے سیاسی موقع کے طور پر دیکھا۔ سیاسی اصطلاح میں اسے "پرائے تندور پر روٹی سینکنا” کہا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، تحریکِ انصاف کے بعض رہنما نہ صرف بیرونِ ملک ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک رہے بلکہ انہوں نے اس تحریک کی حمایت بھی کی۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں مظاہرین کی جانب سے انہیں مسترد کیے جانے کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اندر بھی سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے بعد نرمی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔اس تمام صورتحال نے ریاستی رٹ اور احتجاج کے آئینی حق کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی مطالبات، بالخصوص پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق، آئینی نوعیت کے ہیں جنہیں سڑکوں کے دباؤ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ قانون سازی سے متعلق ہے، اس لیے اسے پارلیمانی اور عدالتی فورمز کے ذریعے ہی نمٹایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اضافی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی معطلی، اور مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے انعامات کے اعلانات کیے گئے ہیں۔آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ریاست اپنی عملداری قائم رکھنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔

دوسری طرف میرپور اور جنوبی اضلاع سے آنے والی اطلاعات کے مطابق تاجروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد میں طویل احتجاج کے باعث بڑھتی ہوئی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کی معطلی اور معاشی دباؤ نے عوامی سطح پر اس تحریک کے حوالے سے مختلف آرا کو جنم دیا ہے۔

اس سارے منظرنامے میں ایک اور اہم پیش رفت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض ارکان کی جانب سے لاتعلقی کے اعلانات ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اب تک پانچ اہم ارکان تنظیم سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔ان میں کمیٹی کے بنیادی رکن سید فیصل گیلانی شامل ہیں، جنہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مفادات کے لیے اس پلیٹ فارم کا حصہ بنے تھے، لیکن حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد مزید اس تنظیم کے ساتھ نہیں چل سکتے۔اسی طرح محسن خلیل نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں تنظیم سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ قتل و غارت اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کے بجائے امن اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ راجہ سلطان، احسان شبیر شانی اور شبیر نگیا لوی بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے راستے جدا کر لیے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ارکان کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے اعلانات سامنے آ سکتے ہیں، جس سے اس تحریک کی داخلی صورتحال مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں جاری یہ کشیدگی صرف ایک احتجاجی تحریک یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ ریاستی عملداری، آئینی حدود اور سیاسی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کا ایک امتحان بن چکی ہے۔ ایسے میں تمام فریقوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون، مذاکرات اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے راستے تلاش کریں جو مزید تصادم کے بجائے پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکیں۔

Back to top button