اقوام متحدہ دہشتگرد افغان طالبان کا ہمنوا کیسے بنا؟

افغانستان کی پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حالیہ سرحدی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں سامنے آنے والے متضاد دعوؤں نے نہ صرف علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی رپورٹنگ کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر شہری ہلاکتوں کی تحقیقات ضروری ہیں تو مبینہ دہشتگرد نیٹ ورکس، ان کے ڈھانچوں اور سرحد پار حملوں میں ان کے کردار کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن (یو این اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹس اور بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق ادارہ مبینہ شہری ہلاکتوں پر تو فوری ردِعمل ظاہر کرتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی مکمل جانچ کے حوالے سے سوالات برقرار رہتے ہیں کہ آیا متاثرہ مقامات پر عسکریت پسند نیٹ ورکس بھی موجود تھے یا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق 9 اور 10 جون کی درمیانی شب افغانستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جن میں کنڑ، خوست اور پکتیکا کے بعض مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ مقامات تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ افراد کے مبینہ ٹھکانے تھے، جبکہ افغان حکام اور دیگر ذرائع کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات بھی سامنے آئے۔اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی بھی ہلاکت کو "شہری” قرار دینے سے قبل اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جاتی ہیں؟ کیا اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ متاثرہ افراد کا تعلق کسی مسلح گروہ سے تھا یا وہ مکمل طور پر غیر عسکری شہری تھے؟ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر اس پہلو کو نظرانداز کیا جائے تو رپورٹنگ یک رخا دکھائی دے سکتی ہے۔
اسی طرح یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا مبینہ طور پر استعمال ہونے والے کمپاؤنڈز صرف رہائشی مقامات تھے یا انہیں سرحد پار حملوں کے لیے سہولت کاری کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔ اگر ایسے دعوے موجود ہیں تو ان کی آزادانہ تحقیقات بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہیے تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں۔ایک اور اہم پہلو خواتین اور بچوں کے ممکنہ استعمال سے متعلق ہے۔ اگر کسی عسکری نیٹ ورک کی جانب سے عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے الزامات کی بھی مکمل اور غیر جانبدارانہ چھان بین ہونی چاہیے۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کے ادارے اور اقوامِ متحدہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی قوانین تمام فریقوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں اور ہر مبینہ خلاف ورزی کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں معلومات تک محدود رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق اکثر ممکن نہیں ہوتی، جس کے باعث مختلف فریقوں کے بیانیے ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور آزادانہ نگرانی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے بقول افغانستان اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی صورتحال کئی پیچیدہ عوامل کا مجموعہ ہے، جہاں دہشتگردی کے خطرات، انسانی حقوق کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے تقاضے ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایسے میں اقوامِ متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمینی حقائق کا جامع، متوازن اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔ کیونکہ پائیدار امن کے لیے نہ صرف شہری جانوں کا تحفظ ضروری ہے بلکہ ان عناصر کی نشاندہی بھی ناگزیر ہے جو خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔
