پاکستانی ISI اور انڈین RAW نے ایکدوسرے کو نیچا کیسے دکھایا؟

پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور بھارتی فوج کی خفیہ ایجنسی را دونوں 1965 کی جنگ کے بعد سے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اس دوران کبھی ایک کا پلا بھاری ہو جاتا ہے تو کبھی دوسرے کا۔ لیکن 1999 ایک ایسا سال تھا جس میں بھارتی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو اپنی سب سے بڑی کامیابیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یعنی اس برس آئی ایس آئی نے را کو نیچا دکھاتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تو را نے آئی ایس آئی سے بھی بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
یاد ریے کہ 1965 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان 22 روزہ جنگ فیصلہ کن نتجے کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ اس جنگ میں انڈیا کو برتری حاصل ضرور تھی لیکن اس کے پاس یہ خفیہ معلومات موجود نہیں تھیں کہ پاکستان کے پاس ہتھیاروں کی کس حد تک کمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 22 ستمبر 1965 کو، جس دن جنگ بندی کا اعلان ہوا، تب پاکستان کا تقریباً تمام اسلحہ ختم ہو چکا تھا اور وہ اسے 24 گھنٹے کے بعد لڑنے کے قابل نہیں رہنا تھا۔ انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سبراہ سنکرن نایر اپنی کتاب ’انسائڈ آئی بی اینڈ را: دی رولنگ سٹون دیٹ گیدرڈ ماس‘ میں لکھتے ہیں کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل جے این چودھری نے وزیر دفاع یشونت راؤ چوان کو اطلاع دی کہ ’فوج نے پاکستان پر فیصلہ کن فتح اس لیے حاصل نہیں کی کہ ہمارے پاس درست انٹیلی جنس معلومات نہیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ معلومات اکٹھی کرنے کی ذمہ داری آئی بی کے نااہل جاسوسوں کو دی گئی تھی۔‘ اس تنقید کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ انڈیا نے ایک نئی انٹیلیجنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ یعنی را قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی ذمہ داری ملک سے باہر انٹیلی جنس جمع کرنا تھی۔ را کا قیام 21 ستمبر سنہ 1968 کو ہوا اور رامیشور ناتھ کاؤ کو اس کا پہلا سربراہ بنایا گیا۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس ائی 1948 میں ہی قائم ہو چکی تھی۔ اسکے بانی ایک آسٹریلوی نژاد برطانوی فوجی افسر میجر جنرل رابرٹ کاؤتھم تھے جو تب پاک فوج میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف تھے۔ اس وقت آئی ایس آئی میں تینوں مسلح افواج سے افسران شامل کیے گئے تھے۔ یعنی آئی ایس آئی عمر میں را سے 17 برس بڑی ہے۔ ایسے میں دونوں ایجنسیوں کا موازنہ کرنا فطری ہے۔
را کے سابق سربراہ وکرم سود اپنی کتاب ’دی ان اینڈنگ گیم‘ میں لکھتے ہیں: ’اگر دونوں ایجنسیوں کا موازنہ کیا جائے تو را کے پاس گرفتاری کا حق نہیں ہے۔ یہ نہ تو آدھی رات کو گرفتاری کے لیے آپ کے دروازے پر دستک دیتی ہے، اور نہ ہی را ملک کے اندر جاسوسی کرتی ہے جبکہ آئی ایس آئی یہ سب کرتی ہے۔‘ انکے بقول را ملک کے وزیراعظم کو جوابدہ ہے جبکہ آئی ایس آئی آرمی چیف کو رپورٹ کرتی ہے۔ حالانکہ کاغذ پر یہ دکھایا گیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے۔‘
را کے ایک اور سابق سربراہ اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ ’آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانینہمیں کہا کرتے تھے کہ آپ کے را والے ہم سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ ہمارے ہاں آنے والے زیادہ تر فوجی ہوتے ہیں، زیادہ شور مچاتے ہیں اور کام کم کرتے ہیں۔ میں خود بھی یہ اندازہ لگاتا ہوں کہ ہم آئی ایس آئی سے کم نہیں۔ پاکستان میں بھی مجھ سے یہی سوال پوچھا گیا۔ میں نے جواب دیا کہ آئی ایس آئی بہت بڑی ایجنسی ہے۔ کاش میں اتنی بڑی ایجنسی کا چیف ہوتا۔‘
را اور آئی ایس آئی کے درمیان مقابلے کی کئی کہانیاں مشہور ہیں۔
را کے سابق سربراہ سنکرن نائر اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: ’سنہ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں خان عبدالغفار خان کے بیٹے ولی خان لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ بھٹو کے سخت مخالف تھے اور بھٹو پاکستان کے نئے وزیراعظم بنے تھے۔ وہ اندرا گاندھی کو سیاسی اور اخلاقی حمایت کا پیغام دینا چاہتے تھے۔ مجھے ان سے ملنے کو کہا گیا۔‘ نائر لکھتے ہیں: ’یہ ملاقات کسی اور ملک میں ہونی تھی کیونکہ لندن میں پاکستانی سفارت خانہ بھی ان پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ میں پہلے لندن اور پھر وہاں سے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن گیا۔ جب میں ناشتہ کر رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے میز پر کچھ لوگوں کو اردو بولتے ہوئے سنا۔ مجھے شبہ تھا کہ وہ لوگ آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں۔ میرا شک اس وقت یقین میں بدل گیا جب وہ لوگ ناشتہ چھوڑ کر راہداریوں میں مجھے اور ولی خان کو ڈھونڈنے لگے۔ نائر نے فوراً ملاقات کی جگہ بدلی اور ولی خان کو ان کی پسندیدہ مٹھائی کے سی داس کے رس گلوں کا ایک ٹین پیش کیا، جس سے وہ بہت خوش ہوئے۔ انڈیا واپس آنے کے بعد نائر نے ولی خان کا پیغام وزیر اعظم اندرا گاندھی کو دیا۔
لیکن 1999 میں را کی تب سخت بدنامی ہوئی جب کھٹمنڈو سے ایئر انڈیا کے ایک جہاز کو ہائی جیکنگ کے بعد کابل پہنچا دیا گیا اور را والوں کو اس منصوبے کا کانوں کان علم نہ ہو پایا۔ اس ہائی جیکنگ کے بعد انڈیا کو تین خطرناک پاکستانی انتہا پسندوں کو رہا کرنا پڑا جن میں سے مولانا مسعود اظہر نے بعد میں جیش محمد کی بنیاد رکھی اور جموں کشمیر میں بھارتی فوجی دستوں پر بڑے دہشت گرد حملے کیے۔ یاد رہے کہ ہائی جیکرز کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے تب کے را چیف مسعود اظہر، شیخ احمد عمر سعید اور مشتاق احمد زرگر کو اپنے طیارے میں سری نگر سے دہلی لائے جہاں سے وزیر خرجہ جسونت سنگھ انھیں اپنے ساتھ قندھار لے گئے اور وہاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایک بڑی ناکامی یہ رہی کہ جب جہاز کو ری فیولنگ کے لیے امرتسر اتارا گیا تو وہاں پر کمانڈو آپریشن کرنے کی بجائے اسے دوبارہ اڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ سارے واقعات بھارت میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلک سیریز میں بھی دکھائے گئے ہیں۔ جس طرح آئی سی 814 طیارے کو امرتسر سے اڑنے اور لاہور تک پرواز کی اجازت دی گئی اس پر را کافی تنقید کی زد میں رہی۔
تاہم بھارتی خفیہ ایجنسی را نے 1999 کی پاک بھارت کارگل جنگ میں پاکستان سے بہتر کارکردگی دکھائی اور یوں بھارتی فوج کو اس جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گئی جس کے بعد پاکستان کو جنگ رکوانے کے لیے امریکہ کی مدد لینا پڑی، تاہم اس سے پہلے ہزاروں پاکستانی جوان کارگل کی پہاڑیوں میں مارے گئے۔ وجہ یہ تھی کہ را کا جاسوسی نیٹ ورک پاکستانی فوجی جوانوں کی پوزیشن کے بارے میں بروقت اور صحیح معلومات دے رہا تھا۔ پاکستان میں اس جنگ کو ’آپریشن کوہ پیما‘ جبکہ انڈیا میں ’آپریشن وجے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کارگل کی چوٹیوں پر قبضے کا پاکستانی منصوبہ دراصل مشرف کے ذہن کی اختراع تھی۔ اس منصوبے میں جنرل مشرف کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس کے جنرل عزیز، ٹین کور کے جنرل محمود اور جنرل جاوید حسن شامل تھے، جو امریکہ سے پڑھ کر آئے تھے اور سب سے زیادہ پرجوش تھے۔ بنیادی منصوبہ یہ تھا کہ کارگل کی بلند چوٹیوں پر سردیوں میں قبضہ کر لیا جائے، یہ سوچا گیا کہ چونکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں اس لیے انڈیا سخت ردِ عمل نہیں دکھائے گا، اس کے بعد جب پاکستان پر دباؤ پڑے گا اور دنیا مداخلت کرے گی تو پاکستان کشمیر کے تصفیہ کا مطالبہ کر دے گا۔ پاکستانی فوجیوں نے کارگل میں بہت زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا، مگر انٹیلیجنس صفر اور پلاننگ ناقص ترین تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اس جنگ کا منصوبہ بنانے والے خود کبھی کارگل گئے ہی نہیں تھے۔ سچ تہ یہ ہے کہ پاکستانی فوجی ٹریک سوٹ پہن کر کارگل کی جنگ لڑے۔ انکے پاس کھانے کا سٹاک بھی نہیں تھا، جنگ لڑنے کا منصوبہ 10 دن کا تھا لیکن انہیں 50 دن تک لڑنا پڑ گیا۔ چونکہ بھارتی افواج چوٹیوں پر بیٹھی تھی اس لیے ہزاروں پاکستانی جوانوں کی جانیں چلی گئیں۔
پاکستان کی پسپائی بعد میں وزیراعظم نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان مزید تلخیوں کا سبب بنی، جو 12 اکتوبر 1999 کو فوجی بغاوت پر منتج ہوئیں اور اس کے بعد جنرل مشرف کے طویل دور اقتدار کا آغاز ہوا۔
