اس برس ڈینگی مچھر زیادہ زہریلا کیوں ہے اور وبا تیز کیوں ہو گئی؟

پاکستان میں مچھر مزید زہریلے ہو گئے، پاکستان میں سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی ڈینگی نے اپنے پنجے گاڑھنا شروع کر دئیے ہیں تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بار ڈینگی وباء میں شدت دیکھی جا رہی ہے ڈینگی بخار نے نوجوانوں کو بھی نشانے پر لے لیا ہے۔ ڈینگی سیزن شروع ہونے سے قبل ہی درجنوں مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں

ماہرین کے مطابق کراچی سے خیبر تک ہر شہر میں ڈینگی کے مریضوں میں روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس بار ڈینگی بخار بہت زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہےہے اس لیے کسی بھی قسم کے بخار کی صورت میں ڈینگی ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیےکیونکہ ڈینگی بخار کی سورت میں جب تک تشخیص ہوتی ہے مریض موت کے منہ میں جا چکا ہوتا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان میں مکران ڈویژن کے ضلع کیچ میں 5,000 لوگوں میں ڈینگی کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 14 مریض دم توڑ چکے ہیں جبکہ کراچی سے خیبر تک ہر شہر میں ڈینگی کے مریضوں میں روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ راولپنڈی میں ڈینگی سے چار مریضوں کا انتقال ہو چکا ہے جو بہت زیادہ الارمنگ ہے کہ ابھی ڈینگی سیزن کی شروعات ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈینگی عموماً نوجوانوں کے لیے کم خطرناک ثابت ہوتا ہے لیکن اس بار ہونے والی تینوں اموات نوجوانوں کی ہیں۔ راول پنڈی میں اب تک 960 مریضوں میں ڈینگی کی تشخیص ہو چکی ہے جو آگے جا کر بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بار جو مریض ہسپتالوں میں آ رہے ہیں ان میں بہت زیادہ پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ وقت پر علاج کے لیے نہیں آتے اور گھریلو ٹوٹکوں سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے ان کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابقڈینگی بخار کے تین درجے ہیں۔ پہلا درجے میں بخار ہوتا ہے، دوسرے درجے میں پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں اور جسم سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔تیسرے درجے کو شاک سینڈروم کہتے ہیں جس میں جسم کے دوسرے اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

تاہم دوسری جانب پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر کے مطابق ڈینگی کوئی بڑا خطرہ نہیں بلکہ انہوں نے اسے سیاسی وباء قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال ڈینگی سے پاکستان میں اوسطاً 60 اموات ہوتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے پر ڈائریا اور نمونیا سے سالانہ اڑھائی لاکھ بچے مر جاتے ہیں۔مگر چونکہ ان اموات کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان اموات کے تدارک کے لیے سرکار فنڈز بھی نہیں لگاتی۔ تاہم ڈینگی لاروے کی چیکنگ، سپرے، ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز کے قیام، ادویات، میڈیکل سامان کی خریداری، اشتہار بازی اور ٹیسٹ کٹوں پر ہر سال اربوں روپے لگا دیے جاتے ہیں.میڈیا کو بھی اس کام میں شریک کر لیا جاتا ہے کیونکہ انہیں بھی خوف پھیلانے کا پیسہ ملتا ہے۔ڈاکٹر جمال ناصر نے دعویٰ کیا کہ ڈینگی کوئی بڑا مسئلہ نہیں مگر اسے مسئلہ بنا کر سیاسی اور مالی فائدے حاصل کیے جاتے ہیں۔

پاکستان سے ہٹ کر عالمی سطح پر دیکھیں تو امریکہ سے انڈیا تک مچھروں کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ ان کی آبادی پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور وہ زیادہ جان لیوا بھی ثابت ہو رہے ہیں۔امریکہ میں شام کی زندگی کو مچھروں نے شدید متاثر کیا ہے اور لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنا کم کر دیا ہے جبکہ شام کے اوقات میں پبلک پارکوں اور شام کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

Back to top button