ایران کے ساتھ پنگے بازی نے اسرائیل کا کباڑہ کیسے نکالا؟

اسرائیل اس وقت ایک ایسے معاشی اور سیاسی بحران کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں جی ڈی پی میں بڑی کمی، سیاحتی شعبے کی تباہی، پروازوں میں شدید کمی اور لاکھوں افراد کی نقل مکانی نے مجموعی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اقتصادی دباؤ کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی ہلچل بڑھ رہی ہے، جہاں نیتن یاہو حکومت پر شدید تنقید اور ممکنہ تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی خبروں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا ہے بلکہ تل ابیب کی مالی منڈیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

مبصرین کے مطابق اسرائیلی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے جہاں مختلف معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔ جی ڈی پی میں چار اعشاریہ انیس فیصد کی کمی رپورٹ کی گئی ہے جبکہ بعض تجزیوں کے مطابق مجموعی معاشی جھٹکا اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ملک کی اہم مالیاتی منڈی، تل ابیب 35 انڈیکس میں رواں ماہ بارہ فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے جو عالمی سطح پر ایک غیر معمولی گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔

سیاحتی شعبہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں غیر ملکی پروازوں میں پچھتر فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ساٹھ فیصد تک کمی نے اس صنعت کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ شمالی علاقوں سے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کی نقل مکانی نے ہوٹل انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور متعدد کاروبار بند ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اسی دوران دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ بھی معیشت پر بوجھ ڈال رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا دفاعی خرچ جی ڈی پی کے آٹھ فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس نے بجٹ خسارے کو بڑھا دیا ہے۔ ملک کا قرض سے جی ڈی پی کا تناسب بھی ساٹھ فیصد کی خطرناک سطح کے قریب پہنچ گیا ہے، جو مالیاتی دباؤ کی واضح علامت ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال نمایاں ہے۔ جنگ اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث کرنسی مارکیٹ متاثر ہوئی ہے اور شیکل کی قدر میں کمی نے درآمدات کو مہنگا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ مرکزی بینک کی مداخلت سے وقتی استحکام کی کوشش کی گئی، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔

اسرائیل میں سیاسی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو حکومت کو شدید اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن میں سابق جنرل یائر گولان ایک مضبوط متبادل سیاسی شخصیت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ان کے گرد لبرل جماعتوں کا اتحاد اور عرب ووٹرز میں بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سیاسی توازن کو متاثر کیا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق یہ صورتحال اسرائیل کے روایتی سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اسی دوران ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی خبروں نے بھی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر اسرائیلی معیشت اور اس کی سیکیورٹی پالیسیوں پر پڑے گا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق یہ غیر یقینی صورتحال آئندہ برسوں میں مزید معاشی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر اسرائیل اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی زوال، سیاسی عدم استحکام اور خطے کی جغرافیائی تبدیلیاں ایک ساتھ نظام کو متاثر کر رہی ہیں، اور آنے والے وقت میں مزید اہم فیصلے اس کی سمت کا تعین کریں گے۔

Back to top button