آزاد کشمیر میں شدید بحران: بنیادی ضروریات تک عوامی رسائی مشکل ہو گئی

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر میں جاری ہڑتال اور راستوں کی بندش نے علاقے میں ایک ایسا سنگین بحران پیدا کر دیا ہے جس میں اب عام شہری بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے بھی شدید مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔ خوراک، ادویات اور پیٹرول کی شدید قلت نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور کئی علاقوں میں تو عوام کی جانب سے گھروں میں موجود خوراک کا ذخیرہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پر مجبور دکھائی دیتے ہیں
بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پتن اور دیگر داخلی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے، جہاں بعض گاڑیوں اور ٹرکوں سے سامان اتار کر سڑک کنارے رکھ دیا جاتا ہے یا انہیں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق خوراک، دالیں، آٹا، چاول، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس سے پورے خطے میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں کے مطابق وہ کئی دنوں سے سڑکوں پر کھڑے ہیں اور ان کا سامان خراب ہونے کے قریب ہے۔ بعض ڈرائیوروں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں حکام کی ہدایات کا حوالہ دے کر آگے جانے سے روکا جا رہا ہے، جس سے سپلائی کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔
اسی دوران ادویات کی عدم دستیابی نے مریضوں کے لیے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور ہسپتال جانے والے مریض شدید متاثر ہیں۔ شہریوں کے مطابق ہسپتال کھلے ہونے کے باوجود ادویات اور آمد و رفت کے مسائل کی وجہ سے علاج مشکل ہو گیا ہے۔ پیٹرول کی قلت نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جہاں بعض علاقوں میں پیٹرول انتہائی مہنگے داموں اور محدود مقدار میں دستیاب ہے، جبکہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی پر غیر رسمی پابندیاں بھی محسوس کی جا رہی ہیں، جس سے سفر تقریباً رک گیا ہے۔
ہڑتال اور راستوں کی بندش کی وجہ سے راولاکوٹ اور باغ سمیت مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ دکانیں بند ہیں یا محدود اوقات میں کھولی جا رہی ہیں، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کے باعث بازاروں میں رونق بھی ختم ہو چکی ہے۔ شہریوں کے مطابق جو لوگ گھروں میں پہلے سے ذخیرہ کر کے بیٹھے تھے، وہ بھی اب ختم ہو رہا ہے، اور نئے سامان کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور کئی اشیاء بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔
وادی نیلم میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں مکمل بندش جیسی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ مرکزی شاہراہیں بند ہیں اور آمد و رفت تقریباً معطل ہے۔ بینکنگ نظام بند ہونے سے رقوم کی ترسیل اور نکاسی کا نظام رک گیا ہے جبکہ تمام اے ٹی ایم مشینیں بھی بند ہیں۔ انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہے اور موبائل سروس بھی محدود ہے، جس سے رابطے کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سیاحتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں اور ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور ریسٹورنٹس خالی پڑے ہیں، جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے۔
اسی بندش کے باعث وادی کے اندر لاکھوں افراد بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہیں۔ مختلف علاقوں میں آٹے اور دیگر اشیائے خوراک کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ بعض مقامات پر سبسڈی والا آٹا بھی بروقت نہیں پہنچ رہا۔ لوگ دور دراز علاقوں سے سفر کر کے سامان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر راستے بند ہونے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر محدود مقدار میں سامان پہنچایا جا رہا ہے لیکن وہ ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خوراک کی ترسیل پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی شہریوں کو بلاوجہ روکا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں ٹریفک اور سیکیورٹی کے باعث عارضی بندشیں ہیں، جبکہ پیٹرول کی ترسیل بھی ایک منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جو گاڑیاں رکاوٹیں عبور کر کے آتی ہیں، انہیں منزل تک پہنچانے میں مدد دی جاتی ہے، اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ دوسری جانب شہریوں اور ڈرائیوروں کا دعویٰ ہے کہ آزاد پتن اور پھگواڑی کے قریب سڑکوں پر درجنوں ٹرک کھڑے ہیں جن میں خوراک، سبزیاں اور پھل لدے ہوئے ہیں جو خراب ہو رہے ہیں۔ بعض ڈرائیوروں کے مطابق انہیں مختلف مقامات پر روک کر غیر واضح ہدایات دی جاتی ہیں، جس سے وہ شدید ذہنی اور مالی نقصان کا شکار ہیں۔
مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک ایسے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں سیاسی احتجاج، سڑکوں کی بندش اور انتظامی اقدامات کے درمیان عام شہری بری طرح پِس رہے ہیں۔ خوراک، ادویات اور پیٹرول کی کمی نے انسانی زندگی کو مشکل ترین مرحلے میں داخل کر دیا ہے، اور پورے خطے میں بے یقینی، پریشانی اور اضطراب کی کیفیت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔
