بجٹ کے بعد امپورٹڈ موبائل فونز کتنے سستے ہونے والے ہیں؟

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی کر دی ہے جبکہ پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کو آسان اقساط میں ادا کرنے کی سہولت بھی متعارف کرادی گئی ہےتاکہ ملک میں موبائل فونز کی قیمتوں کمی کے ساتھ ساتھ صارفین کو نسبتاً سستی ڈیوائسز میسر آ سکیں۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت ممکن ہوئی جب رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فون اب ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے، اس لیے اس پر لگنے والے بھاری ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے۔ بعد ازاں یہ سفارشات مرحلہ وار فنانس بل کا حصہ بن گئیں اور ایف بی آر نے انہیں عملی شکل دینے پر اتفاق کیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے ٹیکس ڈھانچے کے تحت پاکستان میں امپورٹڈ موبائل فونز پر مختلف سلیبس کے مطابق ڈیوٹیز عائد ہیں، جن میں کم قیمت فونز پر نسبتاً کم جبکہ مہنگے فونز پر زیادہ ٹیکس شامل ہے۔ موجودہ نظام میں 30 ڈالر تک کے فونز پر 25 فیصد، 31 سے 100 ڈالر تک 36 فیصد، 101 سے 200 ڈالر تک 40 فیصد، 201 سے 350 ڈالر تک 38 فیصد اور 351 سے 500 ڈالر تک 40 فیصد ٹیکس لیا جا رہا ہے، جبکہ 500 ڈالر سے زائد قیمت کے فونز پر یہ شرح 41 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جس کے باعث پریمیم فونز کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہیں۔
حکومت نے اب خاص طور پر 200 سے 300 ڈالر والے درمیانے درجے کے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کی منظوری دی ہے، جس سے اس طبقے کے صارفین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی اے ٹیکس کو یکمشت ادا کرنے کے بجائے اقساط میں ادا کرنے کی سہولت بھی دی جا رہی ہے، جس سے مہنگے فونز کی رجسٹریشن نسبتاً آسان ہو جائے گی۔ یہ تمام انتظامات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مشترکہ نظام کے تحت کیے جائیں گے۔
مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں موبائل فونز کی قیمتوں میں تقریباً 10 سے 15 ہزار روپے تک کمی ممکن ہے، خاص طور پر مڈ رینج اور بعض ہائی اینڈ فونز میں یہ فرق زیادہ واضح ہوگا۔ ان کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی براہِ راست امپورٹ لاگت کم کرے گی، جس کا فائدہ آخرکار صارف تک منتقل ہوگا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف مکمل یا مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ٹیکس میں کمی سے فوری طور پر قیمتوں میں کچھ کمی آئے گی، لیکن موبائل فونز کی اصل قیمت اب بھی ڈالر ریٹ، عالمی مارکیٹ، سیلز ٹیکس اور دیگر درآمدی اخراجات سے جڑی رہے گی۔ اس لیے تمام فونز پر یکساں یا بڑی کمی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ اقدامات موبائل صارفین کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہیں، لیکن حقیقی اور دیرپا فائدہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ٹیکس ڈھانچے میں مزید اصلاحات کی جائیں اور درآمدی لاگت کے بنیادی عوامل کو بھی بہتر بنایا جائے۔
