ٹرمپ کو بڑا جھٹکا،امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کیخلاف قرارداد منظور

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔ چند ریپبلکن سینیٹرز نے بھی اپنی جماعتی پالیسی سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا اور قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری یا مستقبل کی کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری حاصل کی جائے، جبکہ موجودہ فوجی اقدامات کو روکنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ قرارداد اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی ہے، جس کے بعد کانگریس کے دونوں ایوانوں نے ایران کے معاملے پر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کر لیا ہے۔

اگرچہ اس قرارداد کی قانونی حیثیت محدود ہے اور اسے صدر کے دستخط کے لیے نہیں بھیجا جائے گا، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام وائٹ ہاؤس کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر کانگریس کے اندر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی کئی ماہ سے جاری ہے اور حالیہ امن مذاکرات کے باوجود واشنگٹن میں جنگ اور سفارتکاری دونوں راستوں پر شدید بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے بعد یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوان کسی جاری فوجی تنازع کے حوالے سے صدر کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے یکساں مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔امورِ مشرق وسطیٰ کی ماہر لورا بلومن فیلڈ کے مطابق قرارداد کی علامتی اور سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے، تاہم قانونی طور پر یہ صدر کے اختیارات کو براہ راست محدود نہیں کرتی۔

Back to top button