5558 خواتین کا ایک شوہر، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں کی کرپشن بے نقاب

پاکستان کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے منصوبے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں مالی بے ضابطگیوں اور نظامی کمزوریوں کے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناقص پروفائلنگ، ڈیٹا کی خامیوں اور نگرانی کے کمزور نظام کے باعث اربوں روپے ایسے افراد میں تقسیم کیے گئے جو پروگرام کے قواعد کے مطابق مالی امداد کے اہل ہی نہیں تھے۔

سرکاری آڈٹ دستاویزات کے مطابق 2025-26 کے آڈٹ میں مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد مشکوک اور نااہل کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں مالی بے ضابطگیوں کا حجم 25 ارب روپے سے تجاوز کرتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بی آئی ایس پی کے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (MIS) میں شریک حیات کے ریکارڈ اور خاندانوں کی پروفائلنگ کے عمل میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد غیر قانونی طور پر مالی امداد حاصل کرتے رہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے حیران کن معاملہ شریک حیات کے ریکارڈ میں سامنے آیا جہاں 5 ہزار 558 خواتین کا شوہر ایک ہی شخص ظاہر کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ڈیٹا بیس کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے پورے نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی 24 دسمبر 2019 کی واضح ہدایات کے باوجود سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو مالی امداد دی جاتی رہی۔ آڈٹ کے مطابق 12 ہزار 78 سرکاری ملازمین، پنشنرز یا ان کے شریک حیات کو مجموعی طور پر 51 کروڑ 57 لاکھ روپے سے زائد رقم ادا کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق گریڈ ایک سے سولہ تک کے 673 حاضر سروس سرکاری ملازمین کو 2 کروڑ 52 لاکھ روپے سے زائد دیے گئے جبکہ گریڈ 17 کے 8 افسران کو بھی امدادی رقوم فراہم کی گئیں۔ اسی طرح حاضر سروس ملازمین کے 9 ہزار 211 شریک حیات کو 40 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔

آڈٹ رپورٹ میں پنشنرز کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے جہاں سیکڑوں پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو مجموعی طور پر کروڑوں روپے کی امداد فراہم کی گئی، حالانکہ قواعد کے مطابق وہ اس پروگرام کے مستحق نہیں تھے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 6 لاکھ ایک ہزار 850 مشکوک کیسز کی نشاندہی کی گئی جن میں دہری رجسٹریشن، گاڑیوں کے مالکان، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور دیگر غیر اہل افراد شامل ہیں۔ آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ ان بے ضابطگیوں کی بنیادی وجہ ڈیٹا ویری فکیشن کا ناقص نظام، ریکارڈ کی بروقت جانچ نہ ہونا اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا مؤثر نظام نہ ہونا ہے۔

ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام نااہل مستفیدین کی فوری بلاکنگ اور غیر قانونی طور پر ادا کی گئی رقوم کی واپسی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے تعین کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کے غریب ترین طبقات کے لیے ایک اہم سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے، تاہم اس نوعیت کی بے ضابطگیاں نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ان مستحق خاندانوں کے حقوق بھی متاثر کرتی ہیں جو واقعی مالی امداد کے محتاج ہیں۔ مبصرین کے بقول آڈٹ رپورٹ نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ بی آئی ایس پی کے ڈیٹا بیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، نادرا اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مربوط تصدیقی نظام قائم کیا جائے اور مستحقین کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل صرف حقیقی حق داروں تک پہنچ سکیں۔

Back to top button