جوہری معائنے پر امریکا اور ایران کےمتضاددعوے، ٹرمپ اور تہران آمنے سامنے

امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، جہاں پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، اقتصادی ترقی، تعمیر نو اور معاہدوں کے نفاذ کی نگرانی کے لیے چار مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اعلیٰ سطح کی جوہری نگرانی اور جوہری تنصیبات کے معائنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ "سو فیصد یقینی” ہے اور تہران کا یہ مؤقف درست نہیں کہ انسپکٹرز کے دوروں سے متعلق کوئی شیڈول طے نہیں پایا۔

تاہم ایرانی حکام نے امریکی دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے علی بحرینی نے کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ضرور ہوئی ہے، لیکن بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو اضافی رسائی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا کہ جنگ کے دوران متاثر یا تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی نہیں دی جائے گی اور تہران نے جوہری معائنوں کے حوالے سے کوئی نئی یقین دہانی نہیں کرائی۔

دریں اثنا ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ موجودہ معاہدے کے تحت ایران کو امریکا سے خوراک خریدنے کی اجازت حاصل ہے، تاہم تہران اس سہولت کو استعمال کرنے کا پابند نہیں۔ادھر عمان اور ایران نے ایک مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے اور بحری خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیسوں کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول یا اضافی فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لبنان کے معاملے پر امریکی مؤقف واضح کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں لبنان شامل نہیں اور اس حوالے سے امریکا براہ راست لبنانی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔

ادھر حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے انخلا کرے، جبکہ جوزف عون نے بھی کہا کہ لبنان اپنے جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے کم کسی حل کو قبول نہیں کرے گا۔ تاہم ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار طے شدہ ذمہ داریوں پر مکمل اور درست عملدرآمد پر ہوگا۔

Back to top button