پاکستان سفارتی چیمپئن بن کر کون کون سے معاشی فائدے اٹھا سکتا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تاریخی مفاہمت میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار نے عالمی سطح پر اسلام آباد کی ساکھ کو نمایاں طور پر مستحکم کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات اور بعد ازاں امن معاہدے کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سفارتی کامیابی کو پاکستان معاشی فوائد میں بھی تبدیل کر سکے گا یا یہ کامیابی محض سفارتی سطح تک محدود رہے گی؟

عالمی مبصرین اور معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اگر جنگ میں تبدیل ہو جاتی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ایسے نازک موقع پر پاکستان کی ثالثی نے ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا، جس پر دنیا کے مختلف ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اسلام آباد کی کوششوں کو سراہا۔

تجزیہ کاروں کے بقول وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تنازعات کے حل اور امن کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سب سے بڑا فوری فائدہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی بحالی اور توسیع کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق اگر ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں مکمل یا جزوی طور پر ختم ہوتی ہیں تو پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، خصوصاً بلوچستان کی زمینی سرحد کے ذریعے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران توانائی کے وسیع ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ پابندیوں میں نرمی کی صورت میں ایران سے سستی گیس، تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی درآمد کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے جیسے دیرینہ منصوبوں کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی سطح پر لے جا سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق موجودہ صورتحال کئی حوالوں سے 9/11 کے بعد کے دور سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ اُس وقت پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اتحادی کے طور پر سامنے آیا تھا، جبکہ آج پاکستان ایک "امن قائم کرنے والے” اور مصالحت کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان کے لیے سفارتی اور اقتصادی دونوں حوالوں سے زیادہ مثبت نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی سفارتی حیثیت کی بدولت پاکستان کو امریکا، ایران، خلیجی ممالک، ترکیہ اور چین کے ساتھ بیک وقت بہتر تعلقات استوار کرنے کا نادر موقع حاصل ہوا ہے۔ بہتر سفارتی تعلقات غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارتی معاہدوں اور اقتصادی شراکت داریوں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جو پاکستان کی معاشی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم دوسری جانب معاشی ماہرین خبردار بھی کر رہے ہیں کہ سفارتی کامیابیاں اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، مگر وہ معیشت کے بنیادی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ پاکستان اس وقت ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت، کمزور صنعتی پیداوار، بڑھتے ہوئے قرضوں، مالیاتی خسارے، سماجی و معاشی عدم مساوات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر مسلسل انحصار جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت بنیادی معاشی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ نہیں دیتی تو سفارتی کامیابیوں کے باوجود معیشت دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکے گی۔ عالمی سطح پر بہتر امیج اور سفارتی کامیابیاں مواقع پیدا کرتی ہیں، لیکن ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے داخلی معاشی استحکام ناگزیر ہوتا ہے۔

مبصرین کے بقول پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب یہی ہے کہ وہ اپنی حالیہ سفارتی کامیابی کو اقتصادی فوائد میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔ اگر ایران کے ساتھ تجارت، توانائی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا گیا تو یہ پیش رفت پاکستان کی معاشی بحالی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی معیشت کو کس حد تک بدل سکے گی، تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد نے عالمی سفارتکاری میں اپنی اہمیت دوبارہ منوا لی ہے۔ اب یہ حکومت اور پالیسی سازوں پر منحصر ہے کہ وہ اس خیر سگالی، اعتماد اور عالمی پذیرائی کو کس حد تک قومی معاشی مفاد میں ڈھال پاتے ہیں۔

Back to top button